تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 412
انسانی نظام ناکام رہا بلکہ حق تو یہ ہے کہ اس اعلیٰ حصہ کا ایک ایک فرد اس قابل تھا کہ اس کی خاطر اس سارے نظام کو تیار کیا جاتا۔اسی حکمت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بعض اپنے کامل بندوں سے فرمایا ہے کہ لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الدُّنْیَا (ابن عسا کر بحوالہ موضوعات الکبریٰ باب حرف اللّام) اگر تو نہ ہوتا تو ہم دنیا جہان کے نظام کو ہی پیدا نہ کرتے۔یہ حدیث قدسی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت وارد ہوئی ہے۔بعض اور کامل وجودوں کو بھی اسی قسم کے الہام ہوئے ہیں پس یہ کامل لوگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہی حکمت کے مطابق تھا اور فرشتوں کا خدشہ اس کے مقابل پر کوئی وزن نہ رکھتا تھا۔وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ اس جملہ میں فرشتوں نے اس شبہ کا ازالہ کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ارادہ پر کوئی اعتراض کرتے ہیں اور بتایا ہے کہ ہم تیری تسبیح اور حمداور تقدیس کرنے والے ہیں۔ہم یہ سوال صرف حقیقت حال کو سمجھنے کے لئے کرتے ہیں اعتراض کے طور پر نہیں کرتے۔اس جملہ کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ چونکہ خلیفہ کا وجود خدا تعالیٰ کا ِظلّ ہوتا ہے وہ اس فقرہ سے اس شبہ کا اظہار کرتے ہیںکہ ہم تو اپنی طرف سے تیری تسبیح اور تحمید اور تقدیس کرتے ہیں کیا ہماری تسبیح اور تحمید اور تقدیس میں کوئی نقص ہے کہ ایک اور وجود کو پیدا کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے جو تیر ا ِظلّ ہو اگر یہ معنے لئے جائیں تب بھی فرشتو ںکا قول اعتراض نہیں بنتا بلکہ خشیت اللہ کا ایک لطیف اظہار ہے جو مقربینِ الٰہی کی شان کے عین مطابق ہے۔اس جملہ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ سوال جو ہم نے کیا ہے زیادتی علم کے لئے ہے ورنہ اجمالی طو رپر ہم تیرے ارادے کی تصدیق کرتے ہیں اور چونکہ تو ہر عیب سے پاک ہے اور ہر خوبی کا مالک ہے ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو ارادہ تو نے کیا ہے اس میں ضرور کوئی بڑی حکمت ہو گی مگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں بھی وہ بات آ جائے تاکہ ہم اپنے فرض منصبی کو اچھی طرح ادا کر سکیں۔قَالَ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ اس میں فرشتوں کے سوال کا اجمالی جواب دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شریعت کے نزول کے بعد بشر اس سے پست حالت میں جانے کے قابل بھی ہو جائے گا جو اسے اب حاصل ہے کیونکہ وہ گنہگار اور خدا تعالیٰ کا مغضوب بھی بن سکے گا لیکن باوجود اس کے شریعت کا نزول اپنے اندر ایسے فوائد رکھتا ہے جن کو ابھی تم نہیں سمجھ سکتے اور جو اپنے وقت پر ظاہر ہوں گے تو ان کی حقیقت تم پر کھل جائے گی۔یہ اجمالی جو اب ہے جو ملائکہ جیسے مقرب وجودوں کے لئے کافی ہے کیونکہ ان کو خدا تعالیٰ کی شان کا علم تھا جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ اس میں عظیم الشان فوائد ہیں جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے تو انہیں یقین ہو گیا کہ ضرور ایسا ہی