تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 411

علم اور اس قابلیت کے بعد ہی وہ مفسد اور قاتل کہلانے کا مستحق ہوا لیکن جب وہ بُرے کاموں سے بچنے کا اہل ہو گیا تو اسے اس کا علم نہ دینا یقیناً اس پر ظلم ہوتا۔ملائکہ کے سوال کا خلاصہ خلاصہ یہ کہ ملائکہ کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا شریعت کے نزول کے بعد بشر کی حالت بدل جائے گی؟ پہلے وہ جن افعال کو کرنے کے سبب سے مجرم قرار نہیں دیا جاتا تھا اب انہی افعال کے کرنے کی وجہ سے مجرم قرار دیا جائے گا۔اور یہ خیال ان کا درست تھا اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو بعض کامو ںکی وجہ سے زبردستی مجرم قرار دینے والا تھا بلکہ اس لئے کہ بشر کا دماغ اب کامل ہو چکا تھا اور وہ بُرے کام اس کے دل پر بُرے اثرات ڈالنے کا موجب ہو سکتے تھے پس خدا تعالیٰ نے آدم کو خلیفہ بنا کر اپنا الہام نازل کرنے کا ارادہ کیا تا بشر اپنے اندر پیدا ہونے والی نئی تبدیلی سے آگاہ ہو جائے اور اپنے مقام کو سمجھنے لگے اور اس اعلیٰ مقام کے حصول کے لئے کوشش کرنے لگے جس کے حاصل کرنے کا اب وہ اہل ہو چکا تھا۔آدم کو خلیفہ بنانے کے وقت دو مختلف نظریئے اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے او روہ یہ ہے کہ آدم کو خلیفہ بنانے کے موقع پر جو کچھ خدا تعالیٰ نے فرمایا وہ بھی درست تھا اور جو فرشتوں نے کہا وہ بھی درست تھا صرف نقطۂ نگاہ کا فرق تھا۔اللہ تعالیٰ کی نظر اُن صلحاء پر تھی جو آدم کی نسل میں ظاہر ہونے والے تھے اور اس نظام کی خوبیوں پر تھی جو آدم اور اس کے اَظلال کے ذریعہ سے دنیا میں قائم ہونے والا تھا لیکن فرشتوں کی نظر ان بدکاروں پر تھی جو انسانی دماغ کی تکمیل کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا مورد عتاب بننے والے تھے۔خدا تعالیٰ آدم کی پیدائش میں محمدی جلوہ کو دیکھ رہا تھا اور فرشتے بوجہلی صفات کے ظہور کو دیکھ کر لرزاں و ترساں تھے اور گویہ درست ہے کہ جو کچھ فرشتوں نے خلافت کے قیام سے سمجھا تھا درست تھا مگر ان کا یہ خوف کہ ایسا نظام دنیا کے لئے لعنت کا موجب نہ ہو غلط تھا کیونکہ کسی نظام کی خوبی کا اس کے اچھے ثمرات سے اندازہ کیا جاتا ہے نہ کہ اس میں کمزوری دکھانے والوں کے ذریعہ سے۔اگرکسی اچھے کام کو اس کے درمیانی خطرات کی وجہ سے چھوڑ دیا جائے تو کوئی ترقی ہو ہی نہیں سکتی۔ہر بڑا کام اپنے ساتھ خطرات رکھتا ہے۔ملک کی حفاظت کی خاطر جو جنگ کی جاتی ہے اس میں ہزاروں لاکھوں آدمی مارے جاتے اور زخمی ہوتے ہیں۔طالب علم علم کے سیکھنے میں جانیں ضائع کر دیتے ہیں مگر ان نقصانوں کی وجہ سے نہ ملک کی حفاظت ترک کی جاتی ہے اور نہ علم کا سیکھنا۔پس گو خلافت کے قیام سے انسانوں کا ایک حصہ مورد سزا بننے والا تھا اور مفسد اور قاتل قرار پانے والا تھا مگر ایک دوسرا حصہ خدا تعالیٰ کا محبوب بننے والا تھا اور فرشتوں سے بھی اُوپر جانے والا تھا۔وہ کامیاب ہونے والا حصہ ہی انسانی نظام کا موجب تھا اور اس حصہ پر نظر کر کے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ