تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 410

اور فرشتوں نے جو سوال کیا تھا اس کا جواب انہیں مل گیا۔اَتَجْعَلُ فِیْہَا الخ کے فقرہ میں بیان کردہ امر آدم اور ان کی نسل ہر دو کی نسبت ہے قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّ مَآءَ کے متعلق سوال یہ ہے کہ یہ آدم کی نسبت ہے یا ان انسانوں کی نسبت جن سے اس کا واسطہ پڑنا تھا یا اس کی آئندہ نسل کی نسبت۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فقرہ سب ہی کی نسبت ہے آدم کی نسبت اس طرح کہ آدم علیہ السلام سب سے پہلے نبی ہیں اور ان کے ذریعہ سے انسان کو شریعت کا تابع کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص نظام کا افسر مقرر کیا جائے اسے نظام کی حرمت کے قیام کے لئے کبھی لوگوں کو قید بھی کرنا پڑتا ہے اور کبھی قاتلوں کو قتل بھی کرنا پڑتا ہے اور کبھی جبراً ٹیکس بھی وصول کرنے پڑتے ہیں اور یہ بظاہر فساد نظر آتا ہے کیونکہ بعض لوگ جو نظام کے فوائد کو نہیں سمجھتے وہ حیران ہوتے ہیںکہ دو سروں کا مال جبراً لینا کس طرح جائز ہے اور آزاد کو قید کرنا کس طرح درست ہو سکتاہے اور کسی شخص کو قتل کر دینا کیونکر حلال ہو سکتا ہے حالانکہ حکومت کے لئے اِن سب امو رپر عمل کرنا ضروری ہے۔حکومت ٹیکس لینے اور مجرموں کو قید اور قاتلوں کو قتل کرنے کے بغیر امن قائم ہی نہیں کر سکتی اور نظام کی خوبیاں جو فردی آزادی سے بدر جہا زیادہ فوائد انسانو ںکو پہنچاتی ہیں ظاہر نہیں ہو سکتیں پس پہلی دفعہ نظام کے قیام کے اعلان پر فرشتوں نے اس بات کو عجیب دیکھا کہ اب ایک شخص مقرر کیا جائے گا جسے قید کرنے اور قتل کرنے او رلوگوں سے طوعاً یا کرہاً ان کے اموال کا ایک حصہ لینے کا حق ہو گا اور انہوں نے خدا تعالیٰ سے اپنے علم کی زیادتی کے لئے سوال کیا کہ یہ نظام کس رنگ میں زیادہ بہتر اور زیادہ مفید ہو گا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ یہ امر ابھی تم نہیں سمجھ سکتے۔یہ نظام جس وقت مکمل ہو گا اس کے نتیجہ میں ایسے اعلیٰ درجہ کے انسان پیدا ہوں گے کہ اس سے پہلے موجود نہ تھے اور بنی نوع بشر کو وہ فائدہ پہنچے گا جو اب تک انہیں نہیں پہنچا تھا۔اور اس سے مراد آدم کے مخاطبین بھی ہو سکتے ہیں اور آئندہ نسل بھی۔کیونکہ شریعت ہی انسان کو گنہگار قرار دیتی ہے۔شیر انسانوں اور دوسرے جانوروں کو کھاتا ہے۔سانپ جانوروں اور انسانوں کو ڈستا ہے لیکن نہ شیر کو اور نہ سانپ کو مفسد قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ عقل سے عاری ہیں اور شریعت کے تابع نہیں۔مگر آدم علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کرنے کے یہ معنے تھے کہ بشر اَب ایسی عقل کو حاصل کر چکا تھا کہ شریعت کے تابع ہو اس لئے خدا تعالیٰ نے اسے آدم علیہ السلام کے ذریعہ سے حکم دیا کہ آئندہ کسی دوسرے انسان کو مت مارو اور اگر تمہارے کسی شخص کو کوئی مار دے تو اُسے بھی خود قتل نہ کرو بلکہ حکومت سے اپنے نقصان کی تلافی چاہو پس اس حکم کے بعد کوئی بشر اگرکسی دوسرے بشر کو قتل کرے تو وہ مفسد اور قاتل کہلائے گا۔اس سے پہلے اس کا فعل اسے مفسد اور قاتل نہیں بناتا تھا کیونکہ وہ کسی شریعت کے تابع نہ تھا۔پس آدم کے خلیفہ قرار دینے پر فرشتوں نے صحیح استدلال کیا کہ بشر جو اس سے پہلے کسی شریعت کے تابع نہ ہونے کے سبب سے اپنے افعال کے جواب دِہ نہ تھے آئندہ جواب دِہ قرار دئے جائیں گے اور اگر وہ اپنے طبعی تقاضوں کو قانون کے مطابق پورا نہ کریں گے تو مفسد اور قاتل قرار دیئے جائیں گے اور وہ پوچھتے ہیں کہ کیا آئندہ بشر بھی اسی طرح خدا تعالیٰ کے منشا پر چلنے کے لئے مجبور کئے جائیں گے جس طرح ملائکہ مجبور ہیں اور ان کی طبعی حیوانیت آئندہ قانونِ شریعت کے تابع کر دی جائے گی؟ یہ استدلال ملائکہ کا بالکل درست تھا اور واقعہ میں ایسا ہی ہونے والا تھا۔وہ بشر جو آدم کی بعثت سے پہلے عام حیوانوں کی سی ایک حیثیت رکھتا تھا آدم کے ذریعہ سے شریعت سن کر اور اس پر عمل کر کے اب ملائکہ کے درجہ کو پہنچنے والا تھا اور اس کی مخالفت کر کے سزا کا مستحق بننے والا تھا اور مفسد اور قاتل کہلانے والا تھا۔یہ ایک عجیب لطیفہ ہے کہ انجیل نے بھی اس نکتہ کو پیش کیا ہے لیکن ادھورا پیش کرنے کی وجہ سے مسیحیوں کو اس سے سخت ٹھوکر لگی ہے۔پولوس کے خط رومیوں میں لکھا ہے ’’کیونکہ شریعت کے ظاہر ہونے تک گناہ دنیا میں تھا پر جہاں شریعت نہیں گناہ ِگنا نہیں جاتا‘‘ (باب ۵ آیت ۱۳) اسی طرح لکھا ہے ’’شریعت قہر کا سبب ہے اس لئے کہ جہاں شریعت نہیں وہاں نافرمانی بھی نہیں‘‘ (رومیوں باب ۴ آیت ۱۵) یہ وہی خیال ہے جسے فرشتوں نے پیش کیاہے لیکن انہو ںنے اپنے تقویٰ کے ماتحت اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا کہ ایسے وجود کا پیدا کرنا ترقی کے راستہ میں ضرور روک ہو گا بلکہ سوال اور زیادتی علم کی خواہش کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھا ہے لیکن مسیحیت نے اس سے نتیجہ بھی خود ہی نکال لیا اور سمجھ لیا کہ شریعت صرف بطور سزا کے تھی اور مسیح کے ذریعہ سے اسے دُور کر دیا گیا حالانکہ گناہ تو ایک زہر ہے وہ زہر اس لئے نہیں بنتا کہ خدا تعالیٰ نے اسے گناہ قرار دیا ہے بلکہ چونکہ وہ زہر ہے اس لئے خدا تعالیٰ اسے گناہ قرار دیتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ زہر کا علم دینا زہر کے ضرر کو بڑھاتا نہیں بلکہ اس سے بچنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے بچنے کی ایک راہ کھول دیتا ہے۔جب تک بچہ میں سمجھ نہیں ہوتی اسکی حرکات کسی گرفت کے ماتحت نہیںہوتیں اس لئے نہیںکہ وہ برُی نہیں ہوتیں بلکہ اس لئے کہ وہ برائی کو ابھی سمجھتا نہیں لیکن جب وہ سمجھنے کے قابل ہو جاتاہے ہمارا فرض ہوتا ہے کہ اسے کرنے کے قابل اور نہ کرنے کے قابل امور کا علم دیں اور اس کا فرض ہوتاہے کہ اِس علم کے مطابق عمل کرے۔ہمارا اسے ان امور سے خبردار کرنا ظلم نہیں کہلاتا بلکہ احسان کہلاتا ہے اورحسنِ تربیت سمجھا جاتا ہے اسی طرح بشر جب سمجھنے کے قابل ہوا خدا تعالیٰ نے اسے ان کاموں کا علم دیا جو اس کے کرنے کے تھے اور ان کاموں کا بھی اسے علم دیا جو اس کے کرنے کے قابل نہ تھے۔یہ اس پر قہر نہ تھا بلکہ احسان اور رحم تھا۔اس میں شک نہیں کہ اس