تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 409

اور فرشتوں نے جو سوال کیا تھا اس کا جواب انہیں مل گیا۔اَتَجْعَلُ فِیْہَا الخ کے فقرہ میں بیان کردہ امر آدم اور ان کی نسل ہر دو کی نسبت ہے قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّ مَآءَ کے متعلق سوال یہ ہے کہ یہ آدم کی نسبت ہے یا ان انسانوں کی نسبت جن سے اس کا واسطہ پڑنا تھا یا اس کی آئندہ نسل کی نسبت۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فقرہ سب ہی کی نسبت ہے آدم کی نسبت اس طرح کہ آدم علیہ السلام سب سے پہلے نبی ہیں اور ان کے ذریعہ سے انسان کو شریعت کا تابع کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص نظام کا افسر مقرر کیا جائے اسے نظام کی حرمت کے قیام کے لئے کبھی لوگوں کو قید بھی کرنا پڑتا ہے اور کبھی قاتلوں کو قتل بھی کرنا پڑتا ہے اور کبھی جبراً ٹیکس بھی وصول کرنے پڑتے ہیں اور یہ بظاہر فساد نظر آتا ہے کیونکہ بعض لوگ جو نظام کے فوائد کو نہیں سمجھتے وہ حیران ہوتے ہیںکہ دو سروں کا مال جبراً لینا کس طرح جائز ہے اور آزاد کو قید کرنا کس طرح درست ہو سکتاہے اور کسی شخص کو قتل کر دینا کیونکر حلال ہو سکتا ہے حالانکہ حکومت کے لئے اِن سب امو رپر عمل کرنا ضروری ہے۔حکومت ٹیکس لینے اور مجرموں کو قید اور قاتلوں کو قتل کرنے کے بغیر امن قائم ہی نہیں کر سکتی اور نظام کی خوبیاں جو فردی آزادی سے بدر جہا زیادہ فوائد انسانو ںکو پہنچاتی ہیں ظاہر نہیں ہو سکتیں پس پہلی دفعہ نظام کے قیام کے اعلان پر فرشتوں نے اس بات کو عجیب دیکھا کہ اب ایک شخص مقرر کیا جائے گا جسے قید کرنے اور قتل کرنے او رلوگوں سے طوعاً یا کرہاً ان کے اموال کا ایک حصہ لینے کا حق ہو گا اور انہوں نے خدا تعالیٰ سے اپنے علم کی زیادتی کے لئے سوال کیا کہ یہ نظام کس رنگ میں زیادہ بہتر اور زیادہ مفید ہو گا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ یہ امر ابھی تم نہیں سمجھ سکتے۔یہ نظام جس وقت مکمل ہو گا اس کے نتیجہ میں ایسے اعلیٰ درجہ کے انسان پیدا ہوں گے کہ اس سے پہلے موجود نہ تھے اور بنی نوع بشر کو وہ فائدہ پہنچے گا جو اب تک انہیں نہیں پہنچا تھا۔اور اس سے مراد آدم کے مخاطبین بھی ہو سکتے ہیں اور آئندہ نسل بھی۔کیونکہ شریعت ہی انسان کو گنہگار قرار دیتی ہے۔شیر انسانوں اور دوسرے جانوروں کو کھاتا ہے۔سانپ جانوروں اور انسانوں کو ڈستا ہے لیکن نہ شیر کو اور نہ سانپ کو مفسد قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ عقل سے عاری ہیں اور شریعت کے تابع نہیں۔مگر آدم علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کرنے کے یہ معنے تھے کہ بشر اَب ایسی عقل کو حاصل کر چکا تھا کہ شریعت کے تابع ہو اس لئے خدا تعالیٰ نے اسے آدم علیہ السلام کے ذریعہ سے حکم دیا کہ آئندہ کسی دوسرے انسان کو مت مارو اور اگر تمہارے کسی شخص کو کوئی مار دے تو اُسے بھی خود قتل نہ کرو بلکہ حکومت سے اپنے نقصان کی تلافی چاہو پس اس حکم کے بعد کوئی بشر اگرکسی دوسرے بشر کو قتل کرے تو وہ مفسد اور قاتل کہلائے گا۔اس سے پہلے اس کا فعل اسے مفسد اور قاتل نہیں بناتا تھا کیونکہ وہ کسی