تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 407
زبانِ حال کا محاورہ نہیں تو پھر جو کچھ خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا وہ بطور فیصلہ سنانے کے تھا مشورہ نہ تھا اور الفاظ قرآنیہ اس امر پر دلالت کر رہے ہیں۔آیت کا کوئی لفظ ایسا نہیں جس سے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کچھ پوچھا ہے بلکہ الفاظ بالوضاحت بتا رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے یہ کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں پھر نہ معلوم معترضین نے مشورہ کا مفہوم کہاں سے نکال لیا؟ ہاں! یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سوال کرنے کی اجازت دی ہے کیونکہ جیسا کہ بتایا جا چکاہے فرشتوں کو اس امر کے بتانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ میں آدم کی تائید میں لگ جائیں اور جس کے سپرد کوئی کام کیا جاوے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اُسے اچھی طرح سمجھ بھی لے۔پس انہوں نے سمجھنے کے لئے یہ سوال کیا ہے کہ الٰہی کیا آپ کوئی ایسی مخلوق پیدا کرنے والے ہیں جو فساد کرے گی اور خون بہائے گی ؟اور یہ سوال ان کا خلیفہ کے لفظ سے استدلال کر کے ہے جس کے معنے جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ایسے وجود کے ہیں جو نظام قائم کرے اور نیکوں کو انعام اور بدوں کو سزا دے اور ظاہر ہے کہ ہرسوال اعتراض کے طو رپر نہیں ہوتا بلکہ بعض سوال زیادتی علم کے لئے ہوتے ہیں۔ہر روز اس دنیا میں افسر ماتحتوں کو جب حکم دیتے ہیں تو وہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا یہ فعل اعتراض نہیں کہلاتا۔اَتَجْعَلُ فِيْهَا الخ کے الفاظ سے فرشتوں کا اعتراض کرنا زیادتی علم کے لئے تھا تعجب ہے کہ فرشتے تو ادب کے طور پر فوراً سوال کے ساتھ ہی کہہ دیتے ہیں کہ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ لیکن متعصب معترض پھر بھی اُن کے سوال کو اعتراض قرار دیتا ہے۔جو شخص بات کے ساتھ ہی کہہ دے کہ ہم تجھے سب نقصوں سے پاک اور سب خوبیوں کا جامع سمجھتے ہیں اس کے سوال کو اعتراض کس طرح کہا جا سکتا ہے؟ اس فقرہ سے تو انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا سوال زیادتی علم کے لئے ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کی حکمت پر اعتراض کی نیت سے۔اَتَجْعَلُ فِيْهَا الخ کے الفاظ کو اعتراض قرار دیتے ہوئے آیت کا مطلب ہاں! ایک اور پہلو بھی اس آیت کا ہے جس کے رُو سے اُسے اعتراض بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ جس طرح آدم خدا تعالیٰ کا نائب تھا اسی طرح بعض اور وجود بشروں میں سے ایسے تھے جو ملائکہ کے نائب تھے اور ظلّی طور پر ملائکہ کہلا سکتے تھے اگر ایسے وجود نہ ہوتے اور صرف آدم کا دماغ ہی ترقی یافتہ ہوتا تو شریعت کا نزول عبث رہتا۔ایسے وجودوں کے دِلوں میں یہ بات بطور اعتراض کے پیدا ہو سکتی تھی کہ جب وہ خدا تعالیٰ کی عبادت اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق کر رہے ہیں تو پھر کسی شریعت لانے والے انسان کی کیا ضرورت ہے؟ پس ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں ایسے لوگوں کے دلی خیالات کا بھی جواب دیا گیاہو اور اِس صورت میں اسے اعتراض قرار دینے میں کوئی قباحت لازم نہیں آتی۔جب بھی اللہ تعالیٰ