تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 406
کی دلالت کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ (النحل :۸۲) ہم نے تمہارے لئے ایسی قمیصیں یا لباس بنائے ہیں جو تم کوگرمی سے بچاتے ہیں اس جگہ سردی سے بچانے کے ذکر کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ گرمی کے لباس کے ذکر میں خود ہی آ گیا ہے۔زبانِ حال سے کسی حقیقت کے اظہار کے لئے قول کی طرح اور الفاظ بھی عربی میں استعمال ہوتے ہیںاور قرآن کریم میں بھی استعمال ہوئے ہیں مثلاً قرآن کریم میں آتا ہے فَوَجَدَا فِيْهَا جِدَارًا يُّرِيْدُ اَنْ يَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ (الکہف :۷۸) یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی نے اس گائوں میں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کا ارادہ کر رہی تھی۔اس پر حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھی نے اس کی مرمت کر دی۔اس جگہ دیوار کی نسبت آتا ہے کہ وہ گرنے کا ارادہ کر رہی تھی اور مراد یہ ہے کہ اس کی حالت بتاتی تھی کہ وہ گرنے والی ہے۔امام ابو منصور الثَّعَالَبی اپنی کتاب فِقہُ اللُّغَہ میں لکھتے ہیں مِنْ سُنَنِ الْعَرَبِ اَنْ تُعَبَّرَ عَنِ الْجَمَادِ بِفِعْلِ الْاِ نْسَانِ کَمَا قَالَ الرَّاجِزُ اِمْتَـلَأَ الْحَوْضُ فَقَالَ قَطْنِیْ یعنی عربی کا محاورہ ہے کہ کبھی بے جانوں کی نسبت انسانوں جیسے افعال کو منسوب کر دیتے ہیں جیسے راجز نے کہا ہے کہ اِمْتَـلَأَ الْحَوْضُ فَقَالَ قَطْنِیْ (فقہ اللّغہ فصل فی اضافة الفعل الی ما لیس بفاعل علی الحقیقة) خلاصہ یہ کہقَول کا لفظ اور اسی قسم کے اور الفاظ جو انسانوں کے لئے آتے ہیں کبھی حالت کے بتانے کے لئے عربی میں غیر ذی رُوح اشیاء کی نسبت بھی بول دیئے جاتے ہیں اور مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے زبانِ حال سے یوں ظاہر کیا۔اس تمہید سے میرا یہ منشا ہے کہ اِس آیت میں اور بعد کی آیات میں جو سوال و جواب کا ذکر ہوا ہے ضروری نہیں کہ اسی طرح سوال و جواب ہوا ہو بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ہر اک چیز نے اپنی اپنی حالت کے مطابق خدا تعالیٰ کے حکم کا جو جواب دیا وہ الفاظ میں اس طرح ادا ہو سکتا ہے کہ جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں فرشتوں نے اپنے عمل سے جواب دیا۔ابلیس نے اپنی حالت کو پیش کیا اور دوسری اشیاء نے اپنی حالتوں سے اس کا جواب دیا نہ کہ الفاظ میں اور بول کر اس طرح کہا۔اُردو زبان کا بھی محاورہ ہے کہ انتڑیاں قُلْ ھُوَ اللّٰہ پڑھ رہی ہیں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے پیٹ اپنے عجز کا اظہار کر رہا ہے اور اپنی حالت سے ظاہر کر رہا ہے کہ ہر مصیبت میں اللہ تعالیٰ ہی کام آتا ہے۔فرشتوں کا مکالمہ زبانِ حال کا مکالمہ ہے اس تمہید کے بعد مَیںبتاتا ہوں کہ جو کچھ اس آیت میں بیان ہوا ہے یا تو وہ اوپر کی تمہید کے مطابق زبانِ حال کا ایک مکالمہ ہے لیکن اگر اسے زبانِ حال کا مکالمہ نہ کہا جائے اور میرا ذاتی رُجحان اس طرف ہے کہ اس آیت میں جو کچھ ملائکہ کے متعلق کہا گیا ہے وہ بذریعہ الہام گزرا ہے صرف