تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 405

بات کی تھی اور انہوں نے اس کے بارہ میں کوئی جواب دیا تھا بلکہ جیسا کہحَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے۔قَالَکے معنی صرف زبان سے بولنے کے ہی نہیں ہوتے بلکہ علاوہ بولنے کے دل میں خیال آنے کے بھی ہوتے ہیں جیسا کہ مفردات راغب میں لکھا ہے۔یُقَالُ لِلْمُتَصَوَّرِ فِی النَّفْسِ قَبْلَ الْاِبْرَازِ بِاللَّفْظِ قَوْلٌ یعنی دل میں کسی خیال کا آنا بھی خواہ اسے الفاظ میں ادا نہ کیا جائے قول کہلاتا ہے چنانچہ کہتے ہیں فِیْ نَفْسِیْ قَوْلٌ لَمْ اُبْرِزْہُ۔میرے دل میں ایک بات ہے جو میں نے بتائی نہیں۔قرآنِ کریم میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوا ہے فرماتا ہے۔وَ يَقُوْلُوْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ(المجادلة:۹) یعنی منافق اپنے دلوں میں خیال کرتے ہیں کہ اگر محمد رسول اللہ سچے ہیں تو پھر ان کی باتوںکی وجہ سے جو ہم ان کے بارہ میں کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب میں کیوں مبتلا نہیں کرتا؟ اسی طرح اس کے معنی اعتقاد کے بھی ہیں چنانچہ کہتے ہیں فُـلَانٌ یَقُوْلُ بِقَوْلِ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ یعنی فلاں شخص حضرت ابو حنیفہ کے عقیدہ کے مطابق عقیدہ رکھتا ہے۔نیز قول عملی دلالت کے معنے بھی دیتا ہے۔یعنی ایسی چیز کی نسبت بھی جو بول ہی نہیں سکتی قول کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جبکہ وہ اپنی حالت سے کسی امر کا اظہار کرے چنانچہ عرب کا محاورہ ہے اِمْتَـلَأَ الْـحَوْضُ وَقَالَ قَطْنِیْ حوض بھر گیا اور اس نے کہا کہ بس بس اب زیادہ پانی نہ ڈالو۔قرآن کریم میں یہ بھی محاورہ استعمال ہوا ہے چنانچہ زمین و آسمان کی نسبت آتا ہے کہ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيْنَا طَآىِٕعِيْنَ(حٰمٓ سجدة :۱۲) یعنی پھر اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف جبکہ وہ ابھی دخانی حالت میں تھا متوجہ ہوا اور اسے کہا اور زمین کی طرف بھی کہ وہ بھی اسی حالت میں تھی متوجہ ہوا اور کہا کہ چاہو تو مرضی سے اور چاہو تو مجبوری سے میرے احکام کی فرمانبرداری کرو اس پر ان دونوں نے جواب دیا کہ ہم اپنی مرضی سے تیری فرمانبرداری کریںگے۔اس آیت میں خدا تعالیٰ کا قول بھی تسخیر کے معنوں میں ہے یعنی خدا تعالیٰ نے انہیں ایسا بنایا کہ ان کے بعض حصے اپنی مرضی سے فرمانبردار ہیں اور بعض جیسے انسانوں کا ایک حصہ کہ جبر سے فرمانبرداری کرتے ہیں اور آسمان و زمین کا جواب جو بیان کیا ہے وہ بھی اس کی حالت کا بیان ہے نہ یہ کہ واقع میں وہ زبان سے بولے اور اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حالت سے یہ بتایا کہ وہ خوشی سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریںگے یعنی وہ کلیّ طور پر خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے فرمانبردار ہیں۔دوسرے حصہ میں جو صرف طَائِعِیْنَ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو حصہ ناخوشی سے خدائی قانون کی فرمانبرداری کرتا ہے وہ خوشی سے فرمانبرداری کرنے والے حصہ کے مقابل پر تھوڑا ہے اور یا یہ کہ دوسرے کا ذکر محذوف ہے۔اور یہ عربی کا عام قاعدہ ہے جو قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ پر استعمال ہوا ہے کہ بات کا ایک حصہ محذوف کر دیا جاتا ہے اور جملہ کی بناوٹ