تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 404

میں لے جائے جہاں وہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔آدم ؑ کو جنت میں لے جانے کے بعد <mark>اس</mark> مقصد کو دنیا میں کون پورا کرتا جس کے لئے آدم کو خلیفہ مقرر کیا گیا تھا؟ قرآن کریم کی دوسری آیات بھی <mark>اس</mark> خیال کو ردّ کرتی ہیں مثلاً فرماتا ہے لَا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ(طور: ۲۴) یعنی جنت میں نہ کوئی لغو بات ہو گی اور نہ ایک دوسرے کے خلاف گناہ کا الزام لگایا جائے گا یعنی سب غلطیوں سے پاک ہوں گے لیکن جس جنت میں آدم علیہ السلام رکھے گئے تھے <mark>اس</mark> میں تو شیطان بھی داخل <mark>ہوا</mark> اور <mark>اس</mark> نے آدم علیہ السلام سے ایک ایسا کام کروایا جو منشائے الٰہی کے خلاف تھا پھر جنت کی نسبت تو آتا ہے کہ لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ (الحجر:۴۹) کہ <mark>اس</mark> جنت میں لوگوں کو نہ کسی قسم کی تکان ہو گی اور نہ وہ <mark>اس</mark> میں سے نکالے جائیں گے مگر آدم ؑ تو <mark>اس</mark> جنت میں سے جس میں وہ رکھے گئے تھے نکالے گئے۔<mark>اس</mark>ی طرح <mark>اس</mark> جنت کے متعلق جو مرنے کے بعد ملنے والی ہے فرماتا ہے کہ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (حٰمٓ سجدة:۳۲) جو تم طلب کرو گے تمہیں ملے گا۔مگر آدم ؑ جس جنت میں رکھے گئے <mark>اس</mark> میں تو ان کی خواہش کے پورا کرنے پر یعنی شجرہ کے پ<mark>اس</mark> جانے پر انہیں جنت میں سے نکال دیا گیا۔<mark>اس</mark>ی طرح مرنے کے بعد ملنے والی جنت کے بارہ میں تو آتا ہے کہ <mark>اس</mark> میں داخل ہونے والے لوگ کہیں گےنَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ (الزمر:۷۵) <mark>اس</mark> جنت میں ہم جہاں چاہیں جا سکتے ہیں لیکن آدم علیہ السلام کو جس جنت میں رکھا گیا <mark>اس</mark> کے بارہ میں آتا ہے کہ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ (البقرة :۳۶) <mark>اس</mark> فلاں درخت کے قریب بھی نہ جانا۔غرض قرآن کریم میں مرنے کے بعد ملنے والی جنت کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ <mark>اس</mark> نقشہ سے بالکل مخالف ہے جو<mark>اس</mark> جنت کا بتایا گیا ہے جس میں آدم علیہ السلام کو رکھا گیا تھا پس آدم کی جنت <mark>اس</mark>ی دنیا کا کوئی مقام تھا کیونکہ آدم علیہ السلام <mark>اس</mark>ی دنیا کے لوگو ںکے لئے خلیفہ مقرر کئے گئے تھے اور تا موت <mark>اس</mark>ی میں ان کا رہنا ضروری تھا۔وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ الخ پر تین اعتراض اور <mark>اس</mark> کے جوابات وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ (۱) خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے مشورہ کیا۔کیا اللہ تعالیٰ ملائکہ کے مشورہ کا محتاج ہے؟ (۲) فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر اعتراض کیا کہ انسان تو فساد کرے گا پھر <mark>اس</mark>ے پیدا کرنے کی کیا وجہ ہے۔کیا ملائکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر اعتراض کر سکتے ہیں؟ (۳) ملائکہ کی بات درست نکلی کہ آدم کی نسل نے دنیا میں فساد کیا اور خدا تعالیٰ کا فعل قابل اعتراض ٹھہرا۔ان سوالو ںکا جواب دینے سے پہلے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ قَالَ کا لفظ جو <mark>اس</mark> آیت میں <mark>اس</mark>تعمال <mark>ہوا</mark> ہے ضروری نہیں کہ <mark>اس</mark> کے معنے یہ ہوں کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں اور انسانوں کی کوئی مجلس بلائی تھی اور فرشتوں سے کوئی