تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 398
نُقَدِّسُ۔نُقَدِّسُ قَدَّسَ سے مضارع متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے۔اور قَدَّسَ الرَّجُلُ اللّٰہَ کے معنی ہیں۔نَزَّھَہٗ وَوَصَفَہٗ بِکَوْنِہٖ قُدُّوْسًا اللہ تعالیٰ کو تمام عیوب سے پاک اور جامع جمیع صفاتِ حسنہ قرار دیا۔(اقرب) مفردات میں ہے۔اَلتَّقْدِیْسُ : اَلتَّطْھِیْرُ کہ تقدیس کے معنے ہیں پاک کرنا۔اور آیت نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ میں نُقَدِّسُ لَکَ کے معنے ہیں نُطَھِّرُ الْاَشْیَائَ اِرْتِسَامًا لَکَ کہ جن کو تو پاک کرنے کا حکم دیتا ہے ہم انہیں تیرے حکم کے مطابق پاک کرتے ہیں۔وَقِیْلَ نُقَدِّ سُکَ اَیْ نَصِفُکَ بِالتَّقْدِیْسِ اور بعض نے کہا ہے کہ نُقَدِّ سُکَ کے یہ معنے ہیں کہ ہم تجھے تقدیس کے ساتھ موصوف کرتے ہیں یعنی یہ کہ تو خود پاک ہے اور تو دوسروں کو پاک کرتا ہے۔(مفردات) لسان میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات سُبُّوْحٌ اور قُدُّ وْسٌ ہیں۔ان میں یہ فرق ہے کہ سُبُّوْحٌ کے معنے ہیں اَلَّذِیْ یُنَزَّہُ عَنْ کُلِّ سُوْءٍ کہ وہ ذات جو تمام نقائص سے پاک ہے۔اور اَلْقُدُّوْسُ کے معنے ہیں اَلْمُبَارَکُ جس میں سب قسم کی خوبیاں جمع ہیں۔بابرکت۔اَلطَّاھِرُ خود پاک اور دوسروں کو پاک کرنے والا۔(لسان) تسبیح اور تقدیس میں یہ فرق ہے کہ تسبیح میں تنزیہ ہوتی ہے اور تقدیس میں اس کے علاوہ تعظیم بھی ہوتی ہے۔تفسیر۔اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ الخ کے متعلق سابق مفسرین کے خیالات پیشتر اس کے کہ اس آیت کے مضمون پر کچھ لکھا جائے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق سابق مفسرین کے خیالات کا اظہار کر دیاجائے۔نیز اس بارہ میں جو کچھ سابق کتب میںبیان ہوا ہے اس کا بھی ذکر کر دیا جائے مفسرین نے اس آیت کے متعلق اختلاف کیا ہے بعض کہتے ہیں کہ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً سے مراد آدم ہے اور مراد یہ ہے کہ انسانوں سے پہلے اس دنیا پر ملائکہ رہتے تھے پس خدا تعالیٰ نے ان سے کہا کہ میں تم کو آسمان پر بُلا لوں گا اور تمہاری جگہ ایک اور وجود پیدا کروں گا یعنی آدم (ابن کثیر) اس صورت میں خلیفہ بمعنی اسم فاعل لیا جائے گا۔ان معنوں کے قائلین میں سے بعض نے یہ توجیہ کی ہے کہ آدم کو اس لئے خلیفہ نہیں کہا گیا کہ ان سے پہلے فرشتے بستے تھے اور انہوں نے ان کی جگہ لے لی بلکہ اس لئے کہ ان سے پہلے دنیا پر جن بستے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ہموار زمین سے پہاڑوں کی طرف دھکیل دیا اور آدم کو ان کی جگہ رکھا (ابن کثیر بحوالہ ابن جریر عن ابن عباس) بعض کہتے ہیں کہ خلیفہ سے مراد ایسا وجود ہے جس کے نائب آئندہ پیدا ہوتے رہیں۔پس اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً سے مراد آدم ان معنوں میں ہیں کہ ان کی نسل اس دنیا پر پھیلنے والی تھی (فتح البیان) اس صورت میں خلیفہ بمعنے اسم مفعول ہو گا جیسے کہ ذَبِیْحَۃٌ بمعنی مَذْبُوْحٌ آتا ہے۔اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد نسلِ انسانی ہے نہ آدم۔چنانچہ اس کی تائید