تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 395

فرشتوں میں سے جو نظامِ عالم کے نگران ہیں ان کو مَلَکٌ (لام کی زبر سے) کہتے ہیں۔اور انسانوں میں سے جو نظام کے نگران ہوں۔ان کو مَلِکٌ (لام کی زیر سے) کہتے ہیں یعنی بادشاہ۔اسی طرح مفردات میں لکھا ہے مَلَائِکَۃٌ اور مَلَکٌ کا اصل مَاْلَکٌ ہے۔بعض کے نزدیک مَلْأَکٌ سے مَقْلُوْب ہے جو اَلَکَ سے بنا ہے (لسان العرب نے اس کے اُلٹ لکھا ہے کہ مَلْأَکٌ مَالَکٌ سے مقلوب ہے اور یہی قواعد کے مطابق درست ہے گو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب اَلَکَ اور اَ لَاکَ دونوں کے معنے خبر دینے کے ہیں تو پھر مقلوب ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ دونوں مادوں میں سے ہی مِلَکٌ کا لفظ بن سکتا ہے اور جائز ہے)۔مَأْ لَکٌ اور اُلُوْکٌ کے معنی پیغام کے ہیں چنانچہ کہتے ہیں اَلِکْنِیْ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اَبْلِغْہُ رِسَالَتِیْ کہ اسے میرا پیغام پہنچا دو۔(مفردات) صاحب ِ مفردات نے اس کی وضاحت نہیں کی۔اصل بات یہ ہے کہ أَلِکْنِیْ کے معنے ہیں مجھے رسول بنا دے۔لیکن تقلیب کے طور پر استعمال اُلٹ معنو ںمیں ہونے لگ گیاہے اور مطلب یہ لیا جانے لگا ہے کہ مجھ سے خبر لے کر دوسرے کو پہنچا دے۔یہ محاورہ ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ پرَنالہ چلتا ہے۔حالانکہ پرَنالہ کھڑا ہوتا ہے پانی چلتا ہے۔پس اصل معنے مجھے پیغامبر بنا دے کے ہیں محاورہ میں الٹ گئے۔اس امر کی لسان العرب والے نے وضاحت کر دی ہے۔نیز صاحب مفردات سے ایک اور سہو ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے أَلِکْنِیْ کو أَ لَکَ کے مادہ کے نیچے درج کیا ہے۔حالانکہ أَ لَکَ کا صیغہ امر تو آلِکْنِیْ ہوتا ہے اَلِکْنِیْ کا لفظ اَلَکَ سے نہیں بلکہ اَ لْأَکَ سے بنا ہے جو مہموز العین ہے اس کا ماضی أَ لْأَکَ ہوا۔اور اس سے امر اَلِکْنِیْ ہو گیا۔بعض کے نزدیک مَلَکٌ لَأَکَ سے بنا ہے کہتے ہیں اَ لَاکَہٗ اِلٰی فُـلَانٍ اِلَاکَۃً اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ اَبْلَغَہٗ عَنْہُ اس کی طرف سے کسی کو پیغام دیا۔اس صورت میں مَلَکٌ اصل میں مَـلْأَکٌ تھا۔ہمزہ کثرت استعمال کی وجہ سے حذف ہو گیا اور باقی مَلَکٌ رہ گیا۔(اقرب) تاج میں ہے لَاکَ الشَّیْ ءَ۔اَدَارَہٗ فِیْ فِیْہِ کہ لَاکَ کے معنے کسی چیز کو مُنہ میں پھیرنے کے ہیں چنانچہ گھوڑا جب مُنہ میں لگام پھیرتا ہے۔توکہتے ہیں لَاکَ الْفَرَسُ (تاج) گویا پیغامبر بھی پیغام کے الفاظ کو مُنہ میں دُہراتا ہے اور پھیرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی پیغامبر ہستیوںکوملائک کہا گیا۔پس ملائکہ ان ہستیو ںکو کہیں گے جو اللہ تعالیٰ کا پیغام انسانوں کی طرف لاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ارادے کا اجراء اس دنیا میں کرتی ہیں یا یہ کہ طاقتور ہستیاں۔