تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 34

لفظ استعمال نہیں کریں گے کیونکہ ان کا دل مانتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ رَحْمٰن ہے تو پھر اس کے لئے مسیح کا کفارہ لئے بغیربندوں کے گناہ بخشنا کچھ بھی مشکل نہیں۔رَحِيْمٌکی صفت میں تناسخ کا ردّ رحیم کی صفت میں تناسخ کا رد ہےکیونکہ تناسخ کی بنیاد محدود عمل کی غیر محدود جزا نہ مل سکنے کا عقیدہ ہے صفت رحیم بتاتی ہے کہ محدود عمل کی غیر محدود جزا نہیں ملتی بلکہ نیک عمل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ مکر ّرہوتا ہے پس اس کے بدلہ میں جزاء بھی مکرّر ملتی ہے۔رَحِیْم کا لفظ باربار رحم کرنے پر دلالت کرتا ہے اور بار بار رحم کے معنے یہ نہیں کہ ایک ہی فعل کا بار بار انعام ملتا ہے بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ جو شخص نیکی کی حقیقت کو سمجھتا ہے وہ باربار نیک اعمال بجا لاتا ہے اور کم سے کم اس کے دل میں بار بار نیک عمل بجا لانے کی خواہش ضرور پائی جاتی ہے۔پس ہر دفعہ جب نیک عمل کی جزا بندہ کو ملتی ہے اور نیکی کرنے کی طاقت اور اس کے بار بار بجا لانے کی خواہش اور بھی ترقی کر جاتی ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس پر پھر رحم کرتا ہے اور مومن کی نیکی کی خواہش او ربھی زیادہ ہو جاتی ہے اور وہ نیکی کے کاموں میں اور بھی بڑھ جاتا ہے اور اس طرح رحم بار بار نازل ہوتا جاتا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کا رحم صرف گذشتہ فعل پر انعام کا رنگ ہی نہیں رکھتا بلکہ آئندہ نیکی کے لئے ایک بیج کا کام بھی دیتا ہے۔در حقیقت محدود عمل کا خیال ہندوئوں میں محض اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ انہوں نے جنت کو بیکاری اور بے عملی کا ایک مقام سمجھ لیا ہے اور ان کو سمجھنا بھی ایسا ہی چاہیے کیونکہ وہ نجات کے معنی نروان یعنی تمام خواہشات ا ور اعمال سے آزاد ہونا سمجھتے ہیں۔پس ان کے نزدیک عمل اسی دُنیا میں ختم ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے محدود ہوتا ہے۔اور چونکہ عمل محدود ہوتا ہے ان کے نزدیک اس کا بدلہ بھی محدود ہونا چاہیے۔مگر اسلام بار بار رحم اور بار بار عمل کے مسئلہ کو پیش کرتا ہے اور جنت کو دارالعمل ہی قرار دیتا ہے۔جب خدا تعالیٰ ربّ العالمین ہے تو جنت بھی تو ایک عالمَ ہے وہاں بھی ترقی ہو گی ورنہ ربّ العالمین صحیح نہیں ٹھہرتا۔اور جب انسان وہاں بھی ترقی کرے گا تو لازماً اس کے تقویٰ اور اس کی محبت الٰہی میں بھی ترقی ہو گی اورجب ان چیزوں میں ترقی ہو گی تو اس ترقی کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کا رحم بھی پھر سے نازل ہو گا۔اور جب یہ رحم اور عمل کا بار بار تبادلہ ہوتا رہے گا تو نجات کا وقت محدود کس طرح ہو سکتا ہے؟ اس دنیا اور اگلے جہاں کے عمل میں صرف یہ فرق ہے کہ اس دُنیا میں تنزّلکا خطرہ بھی ساتھ لگا ہوا ہے مگر اگلے جہان میں صرف ترقی ہو گی تنزّل نہ ہو گا ورنہ روحانی عمل اور روحانی ترقی وہاں بھی ہو گی۔پس محدود عمل اور غیر محدود جزا کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔