تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 393
خَلِيْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا وَ يَسْفِكُ ہوں (اس پر) انہوں نے کہا (کہ) کیا تو اس میں (ایک ایسا شخص )پیدا کرے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ بہائے گا۔اور ہم (تو وہ ہیں جو) تیری حمد کے ساتھ (ساتھ تیری) تسبیح بھی کرتے ہیں اور تجھ میں سب بڑائیوں اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۳۱ کے پائے جانے کا اقرار کرتے ہیں (اس پر اللہ نے)فرمایا۔میں یقیناً وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔حَلّ لُغَات۔قَالَ۔قَالَ ماضی کا واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اس کا مصدر قَوْلٌ ہے۔مفرداتِ راغب میں لکھا ہے کہ اَلْقَوْلُ یُسْتَعْمَلُ عَلٰی اَوْجُہٍ لفظ قَوْل کئی معانی کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اَظْھَرُ ھَا اَنْ یَّکُوْنَ لِلْمُرَکَّبِ مِنَ الْحُرُوْفِ الْمُبْرَزِ بِالنُّطْقِ مُفْرَدًا کَانَ اَوْجُمْلَۃً (۱) زیادہ تر حروف سے مرکب مفہوم پر بولا جاتا ہے خواہ وہ مفرد ہو یا جملہ۔اَلثَّانِیْ یُقَالُ لِلْمُتَصَوَّرِ فِی النَّفْسِ قَبْلَ الْاِبْرَازِ بِاللَّفْظِ قَوْلٌ (۲)نفس میں کسی سوچی ہوئی بات پر جو ابھی بول کر ظاہر نہ کی گئی ہو اس پر بھی قول کا لفظ استعمال کرتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں فِیْ نَفْسِیْ قَوْلٌ لَمْ اُظْھِرْہُ کہ میرے نفس میں ایک خیال ہے جس کو میںنے ظاہر نہیں کیا۔اَلثَّالِثُ لِلْاِعْتِقَادِ (۳) کسی کے کوئی عقیدہ رکھنے کے مفہوم کو ظاہر کرنے پر بھی قول کا لفظ بولتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں فُـلَانٌ یَقُوْلُ بِقَوْلِ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ کہ فلاں شخص امام ابو حنیفہؒ کا عقیدہ رکھتا ہے اَلرَّابِعُ یُقَالُ لِلدَّلَا لَۃِ عَلَی الشَیْءِ (۴) اگر کسی چیز کی حالت کسی بات پردلالت کرے تو اس وقت بھی قَوْل کا لفظ استعمال کرتے ہیں چنانچہ اِمْتَـلَأَ الْحَوْضُ وَقَالَ قَطْنِیْ میں قَالَ انہی معنوں میںاستعمال ہوا ہے یعنی جب حوض پانی سے بھر گیا تو اس نے کہا بس! بس! اب زیادہ پانی نہ ڈالو (اس کا مطلب یہ نہیں کہ حوض زبان سے بولا۔بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ حوض کی حالت بزبان حال یہ کہہ رہی تھی کہ وہ بھر گیا ہے اور اس میں مزید پانی کی گنجائش نہیں چنانچہ اس قسم کی مثالیں لغت