تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 392

اسلام کو کوئی نقصان پہنچے گا۔پس سائنس کی ترقی پر جبکہ دوسرے مذاہب کو فکر ہوتی ہے کہ ان کے مذہب کی تردید نہ ہو جائے اسلام کو خوشی ہوتی ہے کہ اس کی صداقت کا ایک اور ثبوت مہیا ہو گیا۔فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍمیں روحانی مدارج کے تعدد اور کثرت کی طرف اشارہ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ میں رُوحانی مدارج کے تعدّد اور کثرت کی طرف اشارہ کر کے اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ جس طرح جسمانی عالم میں ارتقاء ہے اسی طرح روحانی عالم میں بھی ارتقاء ہے اور اسے کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور آخری حصہ وہ ہے جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔حدیث اسراء جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدم کو پہلے آسمان پر دیکھا اور اپنی نسبت یہ دیکھا کہ آپ آسمان کی آخری منزل تک گئے اس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ روحانی عالم کے ارتقاء کی پہلی کڑی آدم تھے اور آخری کڑی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے گویا جس روحانی دنیا کی ابتداء آدمؑ کی صورت میں ظاہر ہوئی اس کی انتہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ظاہر ہوئی۔اس آیت میں اس مضمون کو ختم کیا گیا ہے جو الہام کے بارہ میں تردّد کے متعلق تھا اور بتایا ہے کہ دنیا کو جس طرح خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ الہام ہو کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے الہام دے کر انسان کو ترقی نہ دینی تھی تو اس کے عمل میں بے انتہا تنوع پیدا کرنے کے لئے وہ زمین میں بے انتہا ایسی اشیاء کیوں پیدا کرتا جو سب کی سب انسان کے لئے مفید ہوں؟ اس قدر پُر حکمت عالم پیدا کرنا اور انسانی اعمال کو ایسی وسعت دینا بغیر کسی اعلیٰ مقصد کے نہیں ہو سکتا۔اس مضمون کو ایک دوسری آیت میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے جو میرے بیان کردہ معنوںکی پوری تصدیق کرتی ہے۔فرماتا ہے وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (ہود :۸) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ وقتوں میں تدریجاً پیدا کیا ہے اور اس کا تخت حکومت رُوحانی پانی یعنی الہام پر قائم ہے تاکہ وہ دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔یعنی زمین اور آسمان کو پیدا کر کے خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے انسان پر حکومت شروع کی تاکہ جو باکمال انسان ہیں انہیں اپنے ہُنر دکھانے کا موقع ملے اور وہ ادنیٰ سے اعلیٰ مقامات کی طرف ترقی کریں۔وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ اور (اے انسان تو اس وقت کو یاد کر) جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا (کہ) میں زمین میں ایک خلیفہ بنا نے والا