تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 391

ذکر ہے کہ زمین کی ہر چیز تمہارے لئے پیدا کی گئی ہے پس نہ تو یہاں زمین کی پیدائش کا ذکر ہے اور نہ آسمان کی پیدائش کا۔بلکہ صرف یہ بیان ہے کہ ہم نے تمہارے نفع کے لئے دنیا کی ہر چیز کو پیدا کر کے بلندی کی طرف توجہ کی اور سات بلندیوں میں اسے مکمل بنایا۔پس اس سے تو صرف اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیا میں ہر چیز کو انسان کے فائدہ کے لئے بنا کر اللہ تعالیٰ نے اس سے فائدہ اُٹھانے والے کے لئے سات مدارج ترقیات کے تیار کئے۔یعنی جو لوگ ان سامانوں کو درست طو رپر استعمال کریں گے ان کو اعلیٰ درجہ کی رُوحانی ترقیات ملیں گی۔جیسا کہحَلِّ لُغَات میں بتایا گیا ہے سات سے مراد ضروری نہیں کہ سات ہی کا عدد ہو بلکہ اس سے مراد کثرت بھی ہو سکتی ہے اور آیت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ زمین میں تمہارے عمل کے لئے بے انتہا سامان پیدا کر کے ہم بلندی کی طرف متوجہ ہوئے یعنی اس کے بعد تمہاری رُوحانی ترقیات کے سامان ہم نے مقرر کئے اور بے عیب سامان ترقی کے کثرت سے تیار کئے۔وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ کا مطلب وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ میں اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ زمین میں ہر چیز تمہارے فائدہ کے لئے بنا کر ضروری تھا کہ اس امر کا انتظام کیا جاتا کہ جو لوگ اس مقصد کو پورا کریں یعنی زمینی سامانوں سے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق کام لیں اور اس طرح کام لیں کہ ان سے دنیا کو فائدہ ہو نقصان نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات کے بھی مستحق ہو ںپس فرمایا کہ ایسے لوگوں کے انعامات کے لئے ہم نے بے انتہا رُوحانی مدارج تجویز کئے ہیں تاکہ جو لوگ زمین میں نیکی اور امن پھیلائیں انہیں بلند کر کے آسمانِ روحانیت پر جگہ دی جا سکے پس بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ اس امر پردلالت کرتا ہے کہ ہمارا پہلا فعل جس امر کا مقتضی تھا ہم اس سے غافل نہ تھے پس چونکہ زمین کی ہر شے کو انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کر کے ضروری تھا کہ اس کے صحیح استعمال کرنے والے کو اعلیٰ مقامات دیئے جائیں۔ہم نے ان اعلیٰ مقامات کو بھی نہیں بھلایا اور ہر شخص جو زمین میں اچھا کام لے اس کے لئے آسمان پر اس کے درجہ کے مطابق جگہ بنائی گویا جنت کے مفہوم کو دوسرے لفظوں میں اس آیت میں واضح کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کا کلام خدا تعالیٰ کے فعل سے کسی طرح ٹکرا نہیں سکتا اس آیت میں ایک اور زبردست ثبوت اسلام کی حقانیت کا نکلتا ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے سائنس سے جو خدا تعالیٰ کے فعل کی تشریح ہے کسی صورت میں ٹکرا نہیں سکتا کیونکہ سائنس کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ وہ خواصِ اشیاء معلوم کرے اور خواصِ اشیاء کے معلوم ہونے پر اسلام کی صداقت ثابت ہو گی اور اس آیت کی تصدیق ہو گی نہ کہ