تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 381
یَلْزِمُ مُرَا عَاتَہٗ بعض نے کہا ہے کہ یہ تو عَہد کے لغوی معنے ہیں لیکن پھر ایسے اقرار کے متعلق یہ لفظ <mark>اس</mark>تعمال ہونے لگا جس کی نگہداشت اور حفاظت ضروری ہو۔(اقرب) یُفْسِدُوْنَ۔یُفْسِدُوْنَ فَسَدَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے تشریح کے لئے دیکھو حل لغات سورۃ البقرۃ آیت۱۲۔اَلْخَ<mark>اس</mark>ِرُوْنَ۔اَلْخَ<mark>اس</mark>ِرُوْنَ خَسِرَ سے <mark>اس</mark>م فاعل جمع کا صیغہ ہے اور خَسِرَ التَّاجِرُ فِی بَیْعِہٖ (یَخْسِرُ) کے معنے ہیں وُضِعَ فِیْ تِجَارَتِہٖ تاجر کو تجارت میں گھاٹا ہوا ضِدُّرَبِـحَ۔خَسِرَ کا لفظ نفع کے مخالف معنوں میں <mark>اس</mark>تعمال ہوتا ہے۔خَسِرَ الرَّجُلُ کے <mark>معنی</mark> ہیں ضَلَّ وَھَلَکَ گمراہ ہو گیا اور ہلاک ہو گیا (اقرب)۔عربی زبان میں یہ لفظ ہمیشہ لازم ہی <mark>اس</mark>تعمال ہوتا ہے میں نے بڑی تحقیق کی ہے مگر مجھے نہیں ملا کہ یہ لفظ عربی کے <mark>اس</mark>تعمال میں کہیں بھی متعدّی <mark>اس</mark>تعمال ہواہو مگر عجیب بات ہے کہ تمام کے تمام مفسرین خَسِرُوْا کے معنے اَھْلَکُوْا کرتے ہیں لیکن تاج العروس والا کہتا ہے وَلَا یُسْتَعْمَلُ ھٰذَا الْبَابُ اِلَّا لَازِمًا کَمَا صَرَّحَ بِہٖ اَئِمَّۃُ التَّصْرِیْفِکہ سارے اہلِ تصریف <mark>اس</mark> کو لازم ہی قرار دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ وہ غلطی پر ہیں کیونکہ قرآن کریم میں متعدی <mark>اس</mark>تعمال ہوا ہے لیکن حق یہ ہے کہ یہ لازم ہی ہے اور افسوس یہ ہے کہ ہماری لغتیں مذہبی اثر کے نیچے ہیں اور تفسیروں کے ماتحت لغت کو بھی کر دیا ہے جس سے <mark>اس</mark>لام کو فائدہ نہیں پہنچا بلکہ نقصان پہنچا ہے اور کئی معارف قرآنیہ <mark>اس</mark> تصرف کی وجہ سے لوگوں کی نظر سے مخفی ہو گئے ہیں کاش کوئی شخص ہمت کر کے <mark>ایسی</mark> لغت تیار کرے جو تفسیروں کے اثر سے بالکل آزاد ہوتا کہ لوگ <mark>اس</mark> ناجائز دبائو سے بالکل آزاد ہو جائیں اور قرآن مجید کے سمجھنے میں لوگوں کو سہولت حاصل ہو جائے۔خَسِرَ کے لفظ کے متعلق ہی اگر تفسیرو ںکا رُعب ماننے کی بجائے عربی کے قواعد پر نظر کی جائے تو <mark>اس</mark>ے خلافِ محاورہ متعدّی بنانے کی ضرورت نہ تھی ہم <mark>اس</mark> کے معنے <mark>اس</mark> طرح کر سکتے ہیں کہ جس طرح سَفِہَ نَفْسَہٗ کے کرتے ہیں یعنی حرفِ جار محذوف تصور کرتے ہیںاور جملہ کویوں تصوّر کرتے ہیں کہ سَفِہَ فِیْ نَفْسِہٖ یا تمیز خیال کرتے ہیں جو شاذو نادر کے طور پر معرفہ بھی آ جاتی ہے <mark>اس</mark>ی طرح ہم خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ کے بھی یہ معنے کر سکتے ہیں کہ اپنے نفسوں کے بارہ میں گھاٹا میں پڑ گئے اور یہ معنے دوسرے معنوں سے زیادہ زور دار بھی ہو جاتے ہیں اور یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کا سب فریب خود اپنے ہی نفسوں کے خلاف پڑا ہے تمیز کی صورت میں بھی زور قائم رہتا ہے اور معنے اوپر والے ہی رہتے ہیں۔تفسیر۔ف<mark>اس</mark>قوںکی تین صفات <mark>اس</mark> آیت میں یہ بتایا ہے کہ ف<mark>اس</mark>ق جن کو اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے