تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 364
قَبْلُکے یہ معنی ہیں کہ ہمیں پہلے یہ پھل مل چکے ہیں۔دوسرا اعتراض اس پر یہ پڑتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا کفران ہے شکریہ نہیں کیونکہ احسان کی قدردانی کے موقع پر تو انسان یہ کہتا ہے کہ آج جیسی لطیف چیز ملی ہے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔کسی میزبان کو یہ کہنا کہ ایسا کھانا آپ مجھے پہلے بھی کھلا چکے ہیں اس کی ہجو ہے نہ کہ تعریف۔اس کا تو یہ مطلب نکلتا ہے کہ اب کچھ او رکھلائو کب تک وہی چیز دوبارہ دیتے رہو گے۔میرے نزدیک اس کے دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ چونکہ باغ ایمان کی تمثیلی شکل ہوں گے اور پھل ایمان کی لذت کا تمثل ہو گا۔مومنو ںکو جب بھی جنتی پھل ملیں گے وہ کہیں گے کہ یہ وہی ایمان کی حلاوت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیا میں عطا فرمائی تھی اور ہمارا وہ ایمان ضائع نہیں ہوا بلکہ برابر پھل لا رہا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ فقرہ شکریہ اور امتنان کے جذبات سے بھرا ہوا ہے اور مومن اور خدا تعالیٰ دونوں کے شایانِ شان ہے۔ہر دفعہ پھل ملنے پر وہ ایمان کی نعمت کو یاد کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو بھی یاد کریں گے کہ اس نے انہیں ایمان بخشا تھا اور ساتھ ہی وہ اس نعمت کا بھی شکریہ ادا کریں گے جو ہمیشہ کے لئے ایمان کے نتیجہ کے طورپر روحانی پھل کی شکل میں انہیں آخرت میں ملے گی۔دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ رُزِقْنَا کے معنی وعدہ کے کئے جائیں اور آیت کے معنے یہ ہوں کہ جب کبھی بھی انہیں جنتی پھل ملیں گے وہ کہیں گے کہ یہی وہ پھل ہیں جن کا ہم سے دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا اور وعدہ کے لئے ماضی کے لفظ کا استعمال قرآن کریم سے ثابت ہے چنانچہ اُجرت پر دودھ پلانے والی عورتوں کے ذکر میں فرماتا ہے اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ (البقرة :۲۳۴) جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ جب تم دودھ پلانے والیوں کو دے دو جو حسب قاعدہ دے چکے ہو مگر مراد یہ ہے کہ جس کے دینے کا ان سے پختہ وعدہ کر چکے ہو اس محاورہ کے مطابق رُزِقُوْاکے معنے اس آیت میں یہ کئے جائیں گے کہ جس کے دینے کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا اور آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ جس بات کا وعدہ ہم سے دنیا میں کیا گیا تھا وہ آج اس نعمت کے ذریعہ سے پورا کیا جا رہا ہے۔اور جب بھی جنتی پھل ملیں گے وہ بے اختیار کہہ اُٹھیں گے کہ لو اس وعدے کے مطابق آج بھی ہم کو یہ پھل ملے ہیں۔ان معنوں کو بعض سابق مفسرین نے بھی اختیار کیا ہے۔وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاکا مطلب پہلے مفسرین کے نزدیک وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا۔یعنی وہ پھل انہیں متشابہ صورت میں دیئے جائیں گے کے معنے مفسرین نے یہ کئے ہیں کہ دنیا کے پھلوں سے ملتے ہوئے پھل دیئے جائیں