تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 362

جہاد میں ُسستی کرتے ہو۔اور جس وقت یہ فرمایا کہ سب سے اچھا عمل وقت پر نماز ادا کرنا ہے اور پھر ماں باپ کی خدمت اور پھر جہاد۔اس وقت معلوم ہوتا ہے بعض ایسے لوگ مجلس میں بیٹھے تھے جو وقت پر نماز ادا کرنے میں ُسست تھے اور ماں باپ سے اچھا سلوک نہ کرتے تھے۔پس ان کے مناسب حال یہی حکم تھا کہ وہ نماز وقت پر ادا کریں اور ماں باپ کی خدمت کریں تا ان کی نیکیوں میں یہ رخنہ باقی نہ رہ جائے۔ایمان کی حیثیت ایک باغ کی اور عمل باغ کو تروتازہ رکھنے کا ایک ذریعہ اس آیت میں ایمان اور عملِ صالح بجا لانے والے کو جنتو ںکی بشارت دی گئی ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ ایمان ایک باغ کی حیثیت رکھتا ہے اور عمل اسے سر سبز کرتا ہے اور اس کو پانی دے کر بڑھاتا ہے۔جو شخص ایمان لانے کے بعد عمل نہیں کرتا اس کے ایمان کا درخت سوکھ جاتا ہے چنانچہ عملی منافقوں کی مثال میں اوپر بتایا جا چکا ہے کہ اگر وہ ایمان کے بعد اعمال کی طرف توجہ نہ کریںگے تو ان کا ایمان بھی ضائع ہو جائے گا (دیکھو آیت ۲۰سورہ ھٰذا)قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ (فاطر :۱۱) یعنی جب انسان ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جاتا ہے لیکن اسے خدا تعالیٰ تک اُٹھا کر لے جانے والا عمل صالح ہوتا ہے یعنی ایمان کی تکمیل عمل صالح سے ہوتی ہے اگر عمل صالح نہ ہو تو ایمان درمیان میں ہی رہ جائے اور اپنا پھل پوری طرح نہ دے۔ایک دوسری آیت میں کلمہ طیبہ یعنی پاک تعلیم کو جس کا نتیجہ ایمان ہوتا ہے شجرہ طیبہ سے مثال دی ہے فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً (ابراہیم :۲۵) یعنی کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پاک کلمہ کو پاک درخت سے تمثیل دی ہے۔پاک درخت سے مشابہت دینے کے معنے یہ بھی ہیں کہ جس طرح درخت پانی کا محتاج ہوتا ہے اسی طرح کلمہ طیبہ کا اختیار کر لینا ہی کافی نہیں۔اسے عمل کے پانی سے سیراب کرنا بھی ضروری ہے تبھی اس کی سرسبزی اور شادابی قائم رہے گی۔عمل صالح کرنے والے مومنوں کو ایسے باغات کی بشارت دے کر جن کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ چونکہ انہوں نے اپنے ایمان کی کھیتی کو عمل کے پانی سے سینچا تھا اللہ تعالیٰ بھی انہیں ایسے باغوں میں رکھے گا جن کے اندر نہریں بہتی ہوںگی اور یہ نہروں کا بہنا انہیں یاد کراتا رہے گا کہ ان کا ایمان اور عمل ضائع نہیں ہوا بلکہ اس سے ہمیشہ کی راحت پیدا ہوئی۔باغوں کے سائے ان کی توجہ کو ایمان کی طرف کھینچیں گے جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچتا ہے اور اس کے اندر بہنے والی نہریں انہیں ان کے اعمال صالحہ کی یاد دلائیںگی جنہو ںنے ایمان کے درخت کو سوکھنے سے بچایا۔جنا ّت میں نہروں کے باغوں کے نیچے بہنے کا مطلب یہ جو فرمایا ہے کہ ان باغوں کے نیچے نہریں بہتی