تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 358
کے وقت قبض کر لیتا ہے اور جو مرتی نہیں اسے نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے پھر جس پر تو موت کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے اسے اپنے پاس رہنے دیتا ہے اور دوسری رُوح کو یعنی سونے والے کی رُوح کو ایک وقت مقررہ تک کے لئے واپس کر دیتا ہے۔اس مشاہدہ میں فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ موت اور نیند آپس میں مشابہ ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ موت میں ُکلیّ طور پر رُوح کو مادی جسم سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے اور نیند کے وقت اس کے تعلق کو عارضی طور پر مادی جسم سے قطع کر دیا جاتا ہے۔اس عارضی قطعِ تعلق کے وقت روح انسانی کئی نظارے دیکھتی ہے اور اپنے لئے ایک نیا جسم اور نیا ماحول پاتی ہے اس سے اُخروی زندگی کے متعلق بہت کچھ قیاس کر سکتے ہیں۔عالمِ خواب میں دیکھے ہوئے نظاروں کی تعبیریں اب ہم دیکھتے ہیں کہ نیند کی حالت میں جو انسان کو نظارے نظر آتے ہیں انہیں محض روحانی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کبھی کوئی شخص خواب میں خالی رُوح نہیں دیکھتا بلکہ اس کے ساتھ ایک جسم بھی دیکھتا ہے اور بسا اوقات وہ اپنے آپ کو باغوں میں پاتا ہے اور نہروں میں دیکھتا ہے اور پھل کھاتا ہے اور دودھ پیتاہے۔یہ بھی محض روحانی نہیں ہوتے بلکہ ظاہری شکل میں باغوں اور نہروں اور دودھ اور شہد وغیرہ سے مشابہ ہوتے ہیں مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ خواب کا دودھ ظاہری دودھ ہے یا خواب کا پانی ظاہری پانی ہے بلکہ اس کا مفہوم روحانی عالم میں کچھ اور ہوتا ہے مثلاً جب کوئی شخص اپنے آپ کو ایک ایسے باغ میں دیکھتا ہے جس میں نہر چل رہی ہو اور اس کی یہ خواب اس کے کسی خیال کا نتیجہ نہ ہو بلکہ سچی ہو اور اللہ تعالیٰ نے دکھائی ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا ایمان خدا تعالیٰ کے فضل کا جاذب ہو رہا ہے اور اس کا عمل خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول ہے اور اس کے ایمان اور اس کے عمل نے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جس رنگ میں جذب کیا ہوتا ہے اسے وہ باغ اور نہر کی صورت میں دیکھ کر روحانی لذت محسوس کرتا ہے یا مثلاً کوئی دیکھے کہ وہ آم کھا رہا ہے اور اس کی رئو یا سچی ہو تو اس کی تعبیر یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے نیک اعمال کے بدلہ میں اُسے نیک اولاد یا نیک دل دینے کا فیصلہ کیا ہے یا مثلاً کوئی دیکھے کہ وہ انگور کھا رہا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اس کے دل میں خشیت اللہ بڑھے گی اور محبت الٰہی ترقی کرے گی اور اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو گا۔اور اگر کوئی دیکھے کہ وہ کیلا کھا رہا ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اسے حلال اور طیّب او ربے مشقت رزق دینے کا فیصلہ فرما چکا ہے۔پس جبکہ انسان بظاہر کیلا یا انگور یا آم کھا رہا ہوتا ہے درحقیقت اس کی رُوح میں ان انعامات کے قبول کرنے کی قابلیت پیدا کی جا رہی ہوتی ہے جو ان پھلوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔