تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 356

جواب کا یہ مطلب ہر گز نہ ہو گا کہ <mark>ان</mark> کتب میں روپیہ بھرا ہوا ہے بلکہ صرف یہ کہ جس چیز کو تم خز<mark>ان</mark>ہ <mark>کہتے</mark> ہو اس سے زیادہ فائدہ والی چیز میرے پاس موجود ہے پس جب قرآنِ کریم نے یہ کہا کہ مومنوں کو وہ جنتیں ملیں گی جن میں سایہ دار درخت اور نہریں اور نہ خراب ہونے والا دودھ اور نہ سڑنے والا پ<mark>ان</mark>ی اور موم اور آلائش سے پاک شہد اور نشہ نہ دینے والی بلکہ دل کو پاک کرنے والی شراب ہو گی تو اس سے <mark>ان</mark> کے اعتراض کا جواب اس رنگ میں دیا کہ جن چیزوں کو تم نعمت سمجھتے ہو وہ حقیقی مومنوں کو ملنے والے <mark>ان</mark>عامات سے ادنیٰ ہیں۔جن نہروںکو تم نعمت سمجھتے ہو <mark>ان</mark> کا پ<mark>ان</mark>ی تو سڑ جاتا ہے مومنوں کو وہ نہریں ملیں گی جن کا پ<mark>ان</mark>ی سڑنے والا نہ ہو گا اور جن باغوں کو تم نعمت خیال کرتے ہو وہ اصل نعمت نہیں اصل نعمت تو وہ باغ ہیں جو کبھی برباد نہ ہوں گے اور مومنوں کو ملیں گے۔جس شراب کو تم نعمت سمجھتے ہو اس کی مومنوں کو ضرورت نہیں وہ شراب تو گندی اور عقل پر پردہ ڈالنے والی شےہے مومنوں کو تو خدا وہ شراب دے گا جو عقل کو تیز کرنے والی اور پاکیزگی بڑھ<mark>ان</mark>ے والی ہو گی۔اور جس شہد پر تم کو ناز ہے اس میں تو آلائش ہوتی ہے خدا تعالیٰ مومنوں کو وہ شہد دے گا جو ہر آلائش سے پاک ہو گا اور جن ساتھیوں پر تم کو نا زہے وہ نعمت نہیں کیونکہ وہ گندے ہیں مومنوں کو اللہ تعالیٰ وہ ساتھی دے گا جو پاک ہوں گے جن پھلوں پر تم کو ناز ہے وہ تو ختم ہو جاتے ہیں مومنوں کو تو وہ پھل ملیں گے جو کبھی ختم نہ ہوں گے اور ہر وقت اور خواہش کے مطابق ملیں گے یہ مضمون ایسا واضح ہے کہ ہر شخص جو تعصّب سے خالی ہو کر غور کرے اس کے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے اور اس کے <mark>لطیف</mark> اشارہ کو پا سکتا ہے مگر جو متعصّب ہو یا جاہل۔اس کا علاج تو کوئی ہے ہی نہیں۔مسیحی کتب میں اُخروی <mark>ان</mark>عامات کا ذکر اور <mark>ان</mark> کے مسلم<mark>ان</mark>وں پر اعتراضات کے جواب مسیحی <mark>معترض</mark>ین کو ہی سب سے زیادہ اس کلام پر اعتراض ہے مگر وہ خود اپنی کتب میں نہیں دیکھتے کہ وہاں لکھا ہوا ہے ’’بلکہ مال اپنے لئے آسم<mark>ان</mark> پر جمع کرو‘‘ (متی باب ۶ آیت ۲۰) اسی طرح لکھا ہے ’‘تو جا کے سب کچھ جو تیرا ہے بیچ ڈال اور محتاجوں کو دے کہ تجھے آسم<mark>ان</mark> پر خز<mark>ان</mark>ہ ملے گا‘‘ (متی باب ۱۹ آیت ۲۱) اگر آسم<mark>ان</mark> پر خز<mark>ان</mark>ہ جمع کرنا اور مرنے کے بعد آسم<mark>ان</mark> پر خز<mark>ان</mark>ہ کا ملنا <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کے لئے ممکن ہے تو جنتوں اور نہروں اور پ<mark>ان</mark>ی اور دودھ اور شہد اور بے نشہ پاک کرنے والی شراب کا ملنا کیوں عقل کے خلاف ہے؟ اسی طرح لکھا ہے کہ مسیح ’’خدا کے تخت کے داہنے جا بیٹھا‘‘ (عبر<mark>ان</mark>یوں باب ۱۲ آیت ۲) اگر خدا کو تخت پر بیٹھنے کی ضرورت ہے اور مسیح کو بھی آسم<mark>ان</mark> پر جا کر تخت کی ضرورت پیش آئی تو مومنوں کو جنتوں کی کیوں ضرورت نہیں اور اس پر کیا تعجب ہے؟ اگر <mark>ان</mark> کا جواب ہو کہ <mark>ان</mark>جیل میں مذکور خز<mark>ان</mark>ہ سے مراد یہ ہے کہ جو کوئی شخص خدا تعالیٰ کے لئے اپنے خز<mark>ان</mark>ہ کو چھوڑے گا اسے خدا تعالیٰ روح<mark>ان</mark>ی خز<mark>ان</mark>ہ عطاکرے گا۔اور خدا تعالیٰ کے