تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 356
جواب کا یہ مطلب ہر گز نہ ہو گا کہ ان کتب میں روپیہ بھرا ہوا ہے بلکہ صرف یہ کہ جس چیز کو تم خزانہ کہتے ہو اس سے زیادہ فائدہ والی چیز میرے پاس موجود ہے پس جب قرآنِ کریم نے یہ کہا کہ مومنوں کو وہ جنتیں ملیں گی جن میں سایہ دار درخت اور نہریں اور نہ خراب ہونے والا دودھ اور نہ سڑنے والا پانی اور موم اور آلائش سے پاک شہد اور نشہ نہ دینے والی بلکہ دل کو پاک کرنے والی شراب ہو گی تو اس سے ان کے اعتراض کا جواب اس رنگ میں دیا کہ جن چیزوں کو تم نعمت سمجھتے ہو وہ حقیقی مومنوں کو ملنے والے انعامات سے ادنیٰ ہیں۔جن نہروںکو تم نعمت سمجھتے ہو ان کا پانی تو سڑ جاتا ہے مومنوں کو وہ نہریں ملیں گی جن کا پانی سڑنے والا نہ ہو گا اور جن باغوں کو تم نعمت خیال کرتے ہو وہ اصل نعمت نہیں اصل نعمت تو وہ باغ ہیں جو کبھی برباد نہ ہوں گے اور مومنوں کو ملیں گے۔جس شراب کو تم نعمت سمجھتے ہو اس کی مومنوں کو ضرورت نہیں وہ شراب تو گندی اور عقل پر پردہ ڈالنے والی شےہے مومنوں کو تو خدا وہ شراب دے گا جو عقل کو تیز کرنے والی اور پاکیزگی بڑھانے والی ہو گی۔اور جس شہد پر تم کو ناز ہے اس میں تو آلائش ہوتی ہے خدا تعالیٰ مومنوں کو وہ شہد دے گا جو ہر آلائش سے پاک ہو گا اور جن ساتھیوں پر تم کو نا زہے وہ نعمت نہیں کیونکہ وہ گندے ہیں مومنوں کو اللہ تعالیٰ وہ ساتھی دے گا جو پاک ہوں گے جن پھلوں پر تم کو ناز ہے وہ تو ختم ہو جاتے ہیں مومنوں کو تو وہ پھل ملیں گے جو کبھی ختم نہ ہوں گے اور ہر وقت اور خواہش کے مطابق ملیں گے یہ مضمون ایسا واضح ہے کہ ہر شخص جو تعصّب سے خالی ہو کر غور کرے اس کے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے اور اس کے لطیف اشارہ کو پا سکتا ہے مگر جو متعصّب ہو یا جاہل۔اس کا علاج تو کوئی ہے ہی نہیں۔مسیحی کتب میں اُخروی انعامات کا ذکر اور ان کے مسلمانوں پر اعتراضات کے جواب مسیحی معترضین کو ہی سب سے زیادہ اس کلام پر اعتراض ہے مگر وہ خود اپنی کتب میں نہیں دیکھتے کہ وہاں لکھا ہوا ہے ’’بلکہ مال اپنے لئے آسمان پر جمع کرو‘‘ (متی باب ۶ آیت ۲۰) اسی طرح لکھا ہے ’‘تو جا کے سب کچھ جو تیرا ہے بیچ ڈال اور محتاجوں کو دے کہ تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا‘‘ (متی باب ۱۹ آیت ۲۱) اگر آسمان پر خزانہ جمع کرنا اور مرنے کے بعد آسمان پر خزانہ کا ملنا انسان کے لئے ممکن ہے تو جنتوں اور نہروں اور پانی اور دودھ اور شہد اور بے نشہ پاک کرنے والی شراب کا ملنا کیوں عقل کے خلاف ہے؟ اسی طرح لکھا ہے کہ مسیح ’’خدا کے تخت کے داہنے جا بیٹھا‘‘ (عبرانیوں باب ۱۲ آیت ۲) اگر خدا کو تخت پر بیٹھنے کی ضرورت ہے اور مسیح کو بھی آسمان پر جا کر تخت کی ضرورت پیش آئی تو مومنوں کو جنتوں کی کیوں ضرورت نہیں اور اس پر کیا تعجب ہے؟ اگر ان کا جواب ہو کہ انجیل میں مذکور خزانہ سے مراد یہ ہے کہ جو کوئی شخص خدا تعالیٰ کے لئے اپنے خزانہ کو چھوڑے گا اسے خدا تعالیٰ روحانی خزانہ عطاکرے گا۔اور خدا تعالیٰ کے