تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 30

فرمایا ہے۔اس طرح کئی معانی پیدا کر دیئے گئے ہیں۔اوّل مصدر کے استعمال سے معروف اور مجہول دونوں معنی پیدا کر دیئے گئے ہیں یعنی یہ بھی کہ سب حمد جو مخلوق کر سکتی ہے یا کرتی ہے خدا تعالیٰ کو ہی پہنچتی ہے اور وہ سب قسم کی تعریفوں کا مستحق ہے۔کوئی اچھی بات نہیں جو اس میں نہ پائی جاتی ہو اور کوئی بُری بات نہیں جس سے وہ پاک نہ ہو اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی صحیح حمد کر سکتا ہے کیونکہ وہ عالم الغیب ہے۔بندے بندے کی تعریف کرتے ہیں لیکن بسا اوقات وہ غلط ہوتی ہے بعض دفعہ جس قدر کسی میں خوبی ہوتی ہے اس کا اظہار نہیں کر سکتے اور بعض دفعہ ایسی تعریف کرتے ہیں جو موصوف میں پائی نہیں جاتی۔پس اصل حمد وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو بلکہ دوسرے لوگ تو الگ رہے انسان خود اپنی نسبت رائے قائم کرنے میں غلطی کر جاتا ہے اور اپنی طاقتوں کا غلط اندازہ لگا لیتا ہے مگر جو بات خدا تعالیٰ بندہ کے متعلق فرماتا ہے نہ اس میں کوئی کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔اگر اَلْحَمْدُ کی بجائے اَحْـمَدُ یا نَـحْمَدُ کے الفاظ ہوتے تو یہ معنی پیدا نہ ہو سکتے تھے۔نیز اگر حـمد کا صیغہ فعل استعمال کیا جاتا یعنی یہ کہا جاتا کہ مَیں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں تو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید انسان اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہے لیکن یہ درست نہیں۔انسان کی حمد محدود ہوتی ہے اور وہ صرف اپنے علم کے مطابق حمد کرتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ میں اس کے سوا غیر محدود اسباب حمد کے اور بھی پائے جاتے ہیں۔غرض اَحْـمَدُ یا نَـحْمَدُ سے جو معنے پیدا ہو سکتے تھے وہ بھی اَلْـحَمْدُ میں پائے جاتے ہیں اور ان سے زائد بھی۔اس لئے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کے الفاظ کا اس مختصر سورۃ میں رکھنا جو سب مطالب کی جامع ہے ضروری تھا۔بیشک قرآن کریم میں حمد مخلوق کی طرف بھی منسوب ہوئی ہے جیسا کہ فرمایا وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ (البقرۃ :۳۱) لیکن کہیں بھی اَحْمَدُ یا نَحْمَدُکے الفاظ مخلوق کی طرف منسوب نہیں ہوئے۔گو نُسَبِّحُ اور نُقَدِّسُ کے الفاظ یا یُسَبِّحُ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس میں اس امر کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ خالص حمد کا مکمل طور پر سمجھنا بندہ کی شان سے بالا ہے حدیثوں میں یہ الفاظ آتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں الفاظ کے اور معنے ہوتے ہیں اور بندہ کے کلام میں اور۔بندہ جب اپنی طرف سے ایک لفظ بولتا ہے تو اس کے معنے اتنے وسیع نہیں لئے جاتے جتنے وسیع کہ اس وقت لئے جاتے ہیں جب خدا تعالیٰ کے کلام اور پھر کلام شریعت میں وہ الفاظ آئیں۔لِلّٰہ کے الفاظ سے اس شبہ کو بھی دُور کیا ہے کہ حمد تو انسانو ںکی بھی کی جاتی ہے۔پھر سب تعریف خدا تعالیٰ کی کس طرح ہوئی؟ اور وہ اس طرح کہ لام ملکیت ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے۔پس لام کے ذریعہ سے یہ بتایا گیا