تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 349
دنیاوی باغات کے مشابہ ہے اگرچہ ان میں اور اس میں بہت فرق ہے۔یا اس وجہ سے ہے کہ اس کی نعمتیں ہم سے پوشیدہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ میں فرمایا ہے کہ جنت کی نعماء کاکسی کو علم نہیں۔(مفردات) اَ لْاَنْھٰرُ۔اَلنَّھْرُ کی جمع ہے او ر اَلنَّھْرُ کے معنے ہیں مَجْرَی الْمَاءِ الْفَائِضِ بہنے والے پانی کے چلنے کی جگہ۔وَجَعَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی ذٰلِکَ مَثَـلًا لِّمَایُدِرُّمِنْ فَیْضِہٖ وَفَضْلِہٖ فِی الْجَنَّۃِ عَلَی النَّاسِ قَالَ اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍ(القمر:۵۵) اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے بطور مثال کے اپنے اس فیض اور فضل کو جو اس کے بندوں پر جنت میں بکثرت نازل ہو گا بیان کیا ہے۔جیسے کہ فرمایا اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍ کہ متقی باغات اور نہروں میں ہوں گے وَالنَّھَرُ اَلسَّعَۃُ تَشْبِیْھًا بِنَھْرِ المَآءِ۔نَھَر کے معنی وسعت کے ہیں۔نہر کا پانی چونکہ وسیع ہوتا ہے اس لئے اس کو اس پر قیاس کر لیا۔چنانچہ کہتے ہیں نَھْرٌ نَھِرٌ اَیْ کَثِیْرُ الْمَآءِ بہت پانی والا دریا۔(مفردات) اَزْوَاجٌ۔زَوْجٌ کی جمع ہے اور زَوْجٌ کے معنے ہیں کُلُّ وَاحِدٍ مَعَہٗ اٰخَرُ مِنْ جِنْسِہٖ ہر اک وہ چیز جس کے ساتھ اُس کی جنس میں سے ایک اور وجود بھی ہو (اقرب) عام لوگ زَوْجٌ کے معنے سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ زَوْجٌ کے معنے جوڑے کے ہیں حالانکہ عرب لوگ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے زَوْجٌ کا لفظ استعمال نہیں کرتے بلکہ وہ تثنیہ کا صیغہ بولتے ہیں مثلاً وہ کبوتروں کے جوڑے کے لئے (مذکر اور مؤنث کے لئے) زَوْجُ حَمَامٍ نہیں کہیں گے بلکہ زَوْجَانِ مِنْ حَمَامٍ کہیں گے۔اسی طرح دو موزوں کے لئے زَوْجَانِ مِنْ خَفَافٍ کہیں گے چنانچہ قرآن مجید میں سورہ ہود کی آیت قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ (ھود:۴۱)بھی اس استعمال کو واضح کرتی ہے اور اس سے ثابت ہے کہ زوج کے معنے نرو مادہ کے نہیں بلکہ یا نریا مادہ کے ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے اس آیت میں اِثْنَیْنِ کا لفظ لگا کر واضح کر دیا گیا ہے کہ مراد دو ہم جنس جانور ہیں نہ کہ دو جوڑے (یعنی چار جانور مراد نہیں) حضرت نوح ؑ کو حکم تھا کہ ضروری جانوروں میں سے ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ اپنے ساتھ رکھ لیں۔پس آیت وَلَہُمْ فِیْھَا اَزْوَاجٌ میں اَزْوَاجٌ سے مراد ہم جنس ساتھی کے ہیں یعنی ایسے وجود جن کے ساتھ مل کر تمام ترقیاں اور تمام آرام مکمل ہوں گے قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے ذات باری کے ہر چیز ایک جوڑے کی محتاج ہے اس قاعدہ کے مطابق جنتی بھی جوڑوں کے محتاج ہوں گے خواہ مرد ہوں یا عورتیں۔باقی رہا یہ سوال کہ وہ جوڑے کس قسم کے ہوں گے یہ تفصیل اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔انسان اس کو تفصیلاً اسی وقت معلوم کرے گا جب وہ جنت میں جائے گا۔