تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 348
اِنَّمَا تَکُوْنُ بِالشَّرِّ اِذَا کَانَتْ مُقَیَّدَۃً کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی فَبَشِّرْ ھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ اور وہ بُری چیز کے لئے اُس وقت بولا جاتا ہے جبکہ ساتھ کسی بُری بات کا ذکر ہو جیسے کہ آیت مذکورہ میں عَذَابٌ اَلِيْمٌکے ساتھ اسے مقیّد کیا گیا ہے وَالتَّبْشِیْرُ یَکُوْنُ بِالْخَیْرِ وَالشَّرِّکَقَوْلِہٖ تَعَالٰی فَبَشِّرْ ھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ لیکن تبشیر کا لفظ خیر اور شر دونوں معنوں کے ادا کرنے کے لئے بولا جاتا ہے وَقَدْ یَکُوْنُ ھٰذَا عَلٰی قَوْ لِہِمْ تَحِیَّتُکَ الضَّرْبُ وَعِتَابُکَ السَّیْفُ اور تبشیر کا یہ استعمال ایسا ہی ہے جیساکہ کسی شخص کو جو سخت غُصیلا ہو کہتے ہیں کہ تیرا تحفہ مار ہے اور تیری ناراضگی تلوار۔یعنی معمولی غصہ میں ُتو تلوار نکال لیتا ہے اور کسی پر خوش ہو تو مار کا تحفہ دیتا ہے اسی طرح یہ کہہ دیا گیا کہ انہیں عذاب کی بشارت ملے گی وَالتَّبْشِیْرُ فِیْ عُرْفِ اللُّغَۃِ مُخْتَصَّۃٌ بِالْخَبَرِ الَّذِیْ یُفِیْدُ السُّرُوْرَ اِلَّا اَنَّہٗ بِحَسْبِ اَصْلِ اللُّغَۃِ عِبَارَۃٌ عَنِ الْخَبَرِ الَّذِیْ یُؤَثِّرُ فِی الْبَشَرَۃِ تَغَیُّرًا وَّھٰذَا یَکُوْنُ لِلْحُزْنِ اَیْضًا فَوَجَبَ اَنْ یَّکُوْنَ لَفْظُ التَّبْشِیْرِ حَقِیْقَۃً فِی الْقِسْمَیْنِ اور لفظ تبشیر عام لغت میں خوشی کی خبر دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن اصل لغوی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کے معنی ایسی خبر دینے کے ہیں جس سے چہرہ پر اثر ہو اور یہ دونوں طرح ہو سکتا ہے خوشی سے بھی اور غم و اندوہ سے بھی۔اس لئے در حقیقت یہ لفظ دونوں معنے اپنے اندر رکھتا ہے (تاج) اَلصَّالِحَاتُ۔اَلصَّالِحَۃُ کی جمع ہے جو صَلَحَ سے نکلا ہے اور صَلَحَ الشَّیْءُ کے معنے ہیں ضِدُّ فَسَدَ کوئی چیز فساد سے پاک ہو گئی نیز کہتے ہیں ھٰذَ ایَصْلُحُ لَکَ اَیْ مِنْ بَا بَتِکَ یعنی یہ تیرے مناسب حال ہے اور صَالَحَہٗ کے معنے ہیں وَافَقَہٗ اس سے موافقت کی اَلصَّالِحُ کے معنے ہیں ضِدُّ الْفَاسِدِ فساد سے پاک وَالصَّلَاحِیَۃُ حَالَۃٌ یَکُوْنَ بِھَا الشَّیْءُ صَالِحًا وہ حالت جس سے کوئی چیز مناسب و موزوں ہو جائے (اقرب) پس صالحاتکے معنے ہوں گے وہ اعمال جو فساد سے پاک اور بامصلحت اور مناسب حال ہوں۔جَنّٰتٌ۔جَنَّۃٌ کی جمع ہے اور اَلْجَنَّۃُ جَنَّ میں سے ہے وَاَصْلُ الْجَنِّ سَتْرُ الشَّیْ ءِ یعنی جَنَّ کے اصل معنے کسی چیز کو ڈھانپنے کے ہیں۔یُقَالُ جَنَّہُ اللَّیْلُ چنانچہ جَنَّہُ اللَّیْلُ کا محاورہ یہی معنے ادا کرنے کے لئے مستعمل ہے کہ رات نے اس کو ڈھانپ لیا۔وَالْجَنَّۃُ کُلُّ بُسْتَانٍ ذِیْ شَجَرٍ یَسْتُرُ بِاَشْجَارِہِ الْاَرْضَ اور جنت ہر اُس باغ کو کہتے ہیں جس میں کثرت سے درخت ہوں اور وہ درختوں کے سایہ سے زمین کو ڈھانپ لے۔وَقَدْ تُسَمَّی الْاَشْجَارُ السَّاتِرَۃُ جَنَّۃً اور ڈھانپنے اور چھپانے والے یعنی گھنے درختوں کو بھی جنت کہتے ہیں وَسُمِّیَتِ الْجَنَّۃُ اِمَّا تَشْبِیْھًا بِالْجَنَّۃِ فِی الْاَرْضِ وَاِنْ کَانَ بَیْنَھُمَا بَوْنٌ وَاِمَّا لِسَتْرِہٖ نِعَمَھَا عَنَّا الْمُشَارَ اِلَیْھَا بقَوْلِہٖ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ (السجدۃ:۱۸) اور جنت کو اس لئے جنت کے نام سے پکارا گیا ہے کہ یا تو وہ