تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 347
تکلیف دینا ہے بلکہ <mark>اس</mark>لام کی تعلیم کے رو سے سزا وقتی ہوتی ہے اور <mark>اس</mark> کی غرض یہ ہے کہ وہ پاکیزگی پیدا کی جائے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب کے قابل بنا دے اور <mark>اس</mark> کی حیثیت ایک شفا خانہ کی ہے جو بیماری کے علاج کے لئے مقرر کیا جاتا ہے۔<mark>اس</mark> کی تفصیل آئندہ متعلقہ آیات کے ماتحت آئے گی۔(مثال کے لئے دیکھو سورۃ ہود آیت ۱۰۹) وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ اور تو ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں خوشخبری دے کہ ان کے لئے (ایسے) باغ ہیں تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جب بھی ان (باغوں )کے پھل میں سے کچھ رزق انہیں دیا جائے گا رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِيْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ وہ کہیں گے یہ تو وہی (رزق) ہے جو ہمیں <mark>اس</mark> سے پہلے بھی دیا گیا تھا اور ان کے پ<mark>اس</mark> لایا جائے گا وہ (رزق ) مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِيْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۶ ملتا جلتا اور ان کے لئے ان (باغوں) میں پاک جوڑے ہوں گے اور ان (باغوں) کے اندر (ہمیشہ) بسیں گے۔حَلّ لُغَات۔بَشِّرْ۔اَلْبَشَرَۃُ ظَاھِرُ الْجِلْدِ جلد کے اوپر کے حصہ کو بَشَرَۃٌ کہتے ہیں اور بَشَّرْتُہٗ کے معنے ہیں اَخْبَرْتُہٗ بِسَارٍّ بَسَطَ بَشَرَۃَ وَجْھِہٖ وَ ذَالِکَ اَنَّ النَّفْسَ اِذَا سُرَّتْ اِنْتَشَرَالدَّ مُ فِیْہَا اِنْتِشَارَ الْمَآءِ فِی الشَّجَرِ مَیں نے اُسے خوشخبری سنائی جس سے اُس کے چہرہ پر اثر ہوا اور چہرہ خوشی سے پھیل گیا۔اور <mark>اس</mark> کی وجہ یہ ہے کہ جب نفس انسانی خوش ہو تو خون <mark>اس</mark> میں ایسے ہی پھیل جاتا ہے جس طرح درخت میں پانی۔وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِعَذابٍ اَلِیْمٍ فَ<mark>اس</mark>ْتِعَارَۃُ ذَالِکَ تَنْبِیْہٌ اَنَّ اَسَرَّ مَا یَسْمَعُوْنَـہُ الخَبَرُ بِمَایَنَالُھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ اور کفار کو عذاب کی خبر دیتے ہوئے بشارت کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال کرنے میں <mark>اس</mark> بات کی طرف اشارہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خوش کرنے والی بات جو وہ سنیں گے وہ <mark>اس</mark> عذاب کی خبر ہو گی جو انہیں پہنچے گا(مفردات) تاج میں ہے اَلْبَشَارَۃُ الْمُطْلَقَۃُ لَا تَکُوْنُ اِلَّابِالْخَیْرِ بشارت کا لفظ جب بغیر کسی قید کے بولا جائے تو <mark>اس</mark> سے مراد اچھی خبر ہوتی ہے۔وَ