تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 346

رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِيَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِيْنَ(حٰمٓ السجدۃ :۳۰) یعنی اے ہمارے رب جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا خواہ جِنّتھے خواہ اِنس ان کو ہمارے حوالے کر کہ انہیں خوب پائوں تلے روندیں۔اس آیت میں بھی گمراہ کرنے والے انسانوں کو دو گروہ قرار دیا ہے ایک کو جِنّ کہا ہے اور ایک کو اِنس (جِنّ کی پوری تشریح کے لئے دیکھوالحجرآیت ۲۸ ) غرض گمراہ کرنے کے لحاظ سے کفاّر کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں جِنّ اور اِنس۔اور سزا کے لحاظ سے بھی دو قسمیں بتائی ہیں ناس اور حجارہ۔اس فرق کی یہ وجہ ہے کہ شرارت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے تو اخفا کے پہلو پر زور دینا ضروری ہوتا ہے کیونکہ شریر لوگ ہمیشہ باریک راہوں سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔اگر وہ اپنی شرارتوں کو ظاہر کر دیں تو لوگ ان کے فریب میں نہ آویں پس ان کی اس کوشش کے مدِّنظر ان کا نام جِنّ رکھا لیکن سزا کا جب ذکر ہو تو ان کی سزا کی سختی کی وجہ بتانے کے لئے ان کے دلوں کی سختی کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہوتا ہے تا سزا کے ذکر کے ساتھ اس کی سختی کی معقولیت بھی ثابت ہو پس ایسے موقع پر انہی انسانوں کو جو شرارت اور فساد کے لحاظ سے جِنّ کہلاتے تھے دوزخ کی سزا کے لحاظ سے پتھر کے نام سے یاد کیا۔گو اِس آیت میں آگ اور خصوصاً پتھروں کی آگ کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ماَبعدَالموت سزا اور جزا کے بارہ میں جو کچھ قرآن کریم نے بیان کیا ہے وہ تمثیلی زبان میں ہے جیسا کہ آگے چل کر مختلف آیات کے ماتحت بتایا جائے گا صرف عذاب اور ثواب کو انسانی ذہن کے قریب لانے کے لئے وہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن کو انسان اس دنیا میں سمجھتا ہے تا وہ بعدَ الموت عذاب یا ثواب کی کیفیتوں کو ایک حد تک سمجھ سکے۔اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَکا مطلب اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ عذابِ الٰہی صرف انکار کی صورت میں آتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو نجات کے لئے پیدا کیا ہے۔اِس آیت سے بعض مسلمانو ں کے اس خیال کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ ہر مومن و کافر دوزخ کا مزہ تھوڑا بہت ضرور چکھے گا کیونکہ اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ دوزخ صرف کفار کے لئے تیار کی گئی ہے مگر یہ بھی اس کے معنی نہیں کہ کوئی مومن کہلانے والا دوزخ میں نہ جائے گا کیونکہ قرآن کریم نے ایسے لوگوں کو جو اسلام کی تعلیم پر پوری طرح عمل نہیں کرتے اور اپنی اصلاح کی بھی کوشش نہیں کرتے بمنزلہ کفار کے قرار دیا ہے پس ایسے لوگ جو عقیدۃً مسلمان ہوں لیکن عملاً کفار کا سا رنگ رکھتے ہوں اس آیت کے مضمون کی وجہ سے عذاب سے محفوظ نہیں سمجھے جا سکتے۔یہ بھی یاد رہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے رو سے سزا دائمی اور ابدی نہیں ہوتی نہ اس کی غرض انتقام اور بے حکمت