تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 345
گے۔یہ بھی مراد ہے کہ وہ آگ پتھروں کی ہو گی جو زیادہ سخت ہوتی ہے جیسے پتھر کے کوئلہ یا چوُنہ کے پتھر کی آگ نہایت سخت ہوتی ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایندھن کا لفظ استعارہ کے طور پر ہو اور معنے یہ ہوں کہ اس آگ کے بھڑکانے کا موجب انسانوں اور پتھرو ںکا تعلق ہو گا یعنی بُت پرستی۔حصہ آیت وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ میں نَاس اور حِجارۃ کی تشریح بانیءِ سلسلہ احمدیہ کے قلم سے اور اس کی تائید قرآن مجید سے نَاس او رحِـجَارۃ کی تشریح بانی ئِ سلسلہ احمدیہ نے یہ کی ہے کہ ان الفاظ سے دوزخیوں کی دو اقسام بیان کی گئی ہیں ایک وہ جو کسی قدر محبت الٰہی اپنے دل میں رکھتے ہیں اور ناس کے لفظ سے جو محبت پر دلالت کرتا ہے بالکل خارج نہیں ہو گئے مگر ایک گروہ دوزخ میں وہ جائے گا جو حجارۃ کے مشابہ ہو گا یعنی ان کے دل محبت ِ الٰہی سے بالکل سرد ہوں گے او روہ پتھروں کی مانند ہوں گے کہ کوئی رأفت اور شفقت ان کے دلو ںمیں باقی نہ رہی ہو گی۔یہ معنے نہایت لطیف ہیں اور قرآن کریم سے ان کی تصدیق ہوتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں کفار کو پتھروں سے مشابہت دی گئی ہے چنانچہ یہود کی نسبت فرماتا ہے ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً (البقرۃ:۷۵) یعنی اللہ تعالیٰ کے نشانات دیکھنے کے بعد بھی تمہارے دل پتھروں کی طرح ہو گئے بلکہ بعض کے دل تو پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے پس اس تشبیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ دوزخ کی آگ میں عام کفار بھی ڈالے جائیں گے اور وہ لوگ بھی جو شقاوت کی وجہ سے پتھروں کے مشابہ ہو گئے ہیں۔اگر کہا جائے کہ اس صورت میں تو حجارۃ کو پہلے بیان کرنا چاہیے تھا اور ناس کو بعد میں کیونکہ وہ لوگ جو پتھروں کی طرح ہو گئے ہیں دوزخ کے زیادہ مستحق ہیںتو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا یہ گیا ہے کہ فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ(البقرۃ:۲۵)۔یعنی تم کو آگ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ظاہر ہے کہ اس حکم سے فائدہ اٹھانے کی زیادہ قابلیت انہی لوگوں میں ہو سکتی ہے کہ جو کسی قدر انسانیت کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہوں پس موقع کے لحاظ سے ناس کا لفظ حجارۃ سے پہلے ہی رکھنا مناسب تھا۔قرآن کریم نے شرارت کے لحاظ سے بھی کفار کے دو نام رکھے ہیں جِنّ اور نَاس اور سزا کے لحاظ سے بھی دو نام رکھے ہیں حجارۃ اور ناس۔سورۃ الناس میں فرماتا ہے اَ لَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ۔مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ (الناس:۶،۷) یعنی وسوسے ڈالنے والے وجود سے میں پناہ مانگتا ہوں جو کبھی جِنّ ہوتا ہے اور کبھی انسان۔اس محاورہ کا استعمال سورۃ حٰم سجدہ میں بھی ہوا ہے وہاں فرماتا ہے کہ دوزخ میں ڈالے جانے کے وقت عام دوزخی کہیں گے کہ