تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 344
جمع اَحْجَارٌ بھی آتی ہے اور حَجَرَانِ سونے اور چاندی کو کہتے ہیں (اقرب) اُعِدَّتْ۔اَعَدَّ سے ماضی مجہول مؤنث کا صیغہ ہے اور اَعَدَّہٗ لِاَمْرِکَذَا کے معنی ہیں ھَیَّأَہٗ وَاَحْضَرَہٗ اس کو اس کے لئے تیار کیا اور حاضر کیا (اقرب) پس اُعِدَّتْ کے معنے ہوں گے وہ تیار کی گئی ہے اور حاضر رکھی گئی ہے۔اَلْکَافِریْنَ۔اَلْکَافِرِیْنَ اَلْکَافِرُ کی جمع ہے اور یہ کَفَرَ کا اسم فاعل ہے مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۷۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ اگر تم اس دعویٰ کا مقابلہ نہ کر سکو اور قرآن کریم کی کسی سورۃ کی مثل نہ لا سکو اور وہ امور جو یہاں بیان کئے گئے ہیں اپنے کلام میں بتا نہ سکو اور تم ایسا کبھی نہ کر سکو گے تو سمجھ لو کہ یہ کلام خدا تعالیٰ کا ہے اور تم انسان کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا مقابلہ کر رہے ہو اور اس صورت میں تم کو اِس سزا کے بھگتنے کے لئے بھی تیار ہو جانا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی صداقتوں کا مقابلہ کرنے والو ںکو ملتی ہے۔حصہ آیت وَلَنْ تَفْعَلُوْاکے دو معنی وَلَنْ تَفْعَلُوْا کے معنے یہ بھی ہیں کہ تم ایسا ہر گز نہ کر سکو گے اور یہ بھی کہ تم ایسا نہیں کرو گے۔دوسرے معنوں کے رُو سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گو کفار خدا تعالیٰ کے ساتھ بعض ہستیوں کو شریک قرار دیتے تھے مگر اپنے دلوں میں جانتے تھے کہ ان میں الہام نازل کرنے کی طاقت نہیں اور وہ کبھی وحی نازل نہیں کرتے پس وہ کس منہ سے اپنے شہداء کو بلاتے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی جب مشرکوں کو توجہ دلائی کہ اپنے معبودوں سے پوچھو کہ وہ فلاں امر کے بارہ میں کیا کہتے ہیں تو انہوں نے مجبور ہو کر جواب دیا کہ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰؤُلَآءِ يَنْطِقُوْنَ (الانبیاء :۶۶) یعنی تم جانتے ہو کہ وہ بولتے نہیں۔اسی طرف قرآن کریم بھی اشارہ کرتا ہے کہ ہم تو اس کلام کو خدا تعالیٰ کے کلام کے طور پر پیش کرتے ہیں تم کو بھی یہ کہنا ہو گا کہ ہمارے بتو ںنے یا خدا تعالیٰ کے سوا دوسرے خود ساختہ معبودوں نے اس سورۃ کے مضامین ہمیں بتائے ہیں جو قرآن کریم کے مقابل پر ہم پیش کرتے ہیں مگر تم شرک کے دعوے تو بہت کرتے ہو مگر اس مقابلہ کے لئے تم کبھی تیار نہیں ہو گے کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمہارے معبود تمہارے ذہنوں میں ہی ہیں ان کا خارجی وجود کوئی نہیں ا ور وہ زندہ خدا کی طرح بول نہیں سکتے۔وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ کا مطلب جس سزا سے ڈرایا گیا ہے اس کے متعلق بتایا کہ وہ سزا آگ ہے جس کا ایندھن ناس اور حجارہ ہیں۔نار کے معنی اگر دوزخ کے کئے جائیں تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ جس دوزخ میں کافر جائیں گے اِس کا ایندھن کچھ انسان اورپتھر ہیں یعنی مشرک اور ان کے بُت جن کو وہ پُوجتے ہیں چنانچہ ایک دوسری جگہ آتا ہے اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (الانبیاء :۹۹) تم اور تمہارے بُت جہنم میں جائو