تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 342
سورۃ میں سے بعض الفاظ بدل کر ایک کلام پیش کرنا اور وہ بھی معنے اور مطلب سے عاری حالانکہ سورہ کوثر زبردست پیشگوئیو ںپر مشتمل ہے جن میں سے بہت سی غیر معمولی حالات میں پوری ہو چکی اور بعض پوری ہونے والی ہیں ایک مجنون ہی کا کام ہو سکتا ہے اور بعض مسیحی مصنفوں کا اس پوچ عبارت کو قرآن کریم کی سورۃ کے مدِّمقابل پیش کرنا یقینا ان کے تقویٰ کو اچھی شکل میں پیش نہیں کرتا۔مگر میں پھر کہتا ہوں قرآن کریم کا دعویٰ ہر سورۃ کے بارہ میں ہے کہ اس پر قیامت تک عمل کیا جائے گا مگر ُمسیلمہ کا کلام کہاں ہے اور اُسے کون مانتا ہے؟ حصہ آیت مِمَّا نَزَّلْنَاسے بعض مفسرین کا نَزَّلْنَا کے لفظ سے ایک غلط استنباط مِمَّا نَزَّلْنَا… …الخ اس آیت کے متعلق ایک یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بعض مفسّرین نے کفار کے شبہ کی وجہ نَزَّلْنَا کے لفظ کو قرار دیا ہے اور یہ استدلال کیا ہے کہ چونکہ نَـزَّلَ بابِ تفعیل سے ہے اور بابِ تفعیل میں ایک خاصیّت آہستہ آہستہ یا بار بار فعل کے صدور کی پائی جاتی ہے اس لئے مراد یہ ہے کہ اے کفار! اگر تم کو قرآن کے آہستہ آہستہ اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل ہونے پر اعتراض ہے اور تمہارے نزدیک سارا قرآن اکٹھا اُترتا تو اور بات تھی مگر وہ چونکہ آہستہ آہستہ پیش کیا جا رہا ہے اور آہستہ آہستہ پیش کرنے میں اس کے مصنف کو آسانی رہتی ہے کہ جوں جوں واقعات پیش آتے جائیں وہ ان کے مطابق کلام بناتا جاتا ہے اس لئے وہ معجزانہ کلام نہیں ہو سکتا تو ہم تم کو کہتے ہیں کہ تم ایک ٹکڑا ہی قرآن جیسا بنا دو اگر تم ایک ٹکڑا ہی بنا سکے تو تمہارا اعتراض درست ہو گا ورنہ نہیں۔معناً تو یہ استنباط لطیف معلوم ہوتا ہے لیکن عربی زبان کے قواعد کے لحاظ سے یہ امر درست نہیں ثابت ہوتا کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بابِ تفعیل میں تکرار اور کثرت کا مفہوم پایا جاتا ہے جن کے مجرّد کا صیغہ متعدی ہو مثلاً ضَرَبَ کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں کسی کو مارا یہ متعدّی ہے اس کو اگر ضَرَّبَ بنا دیا جائے تو اس میں تکرار اور شدّت کے معنے پیدا ہو جائیں گے اور ضَرَبَ کے معنے اگر مجرّد مارنے کے ہوں گے تو ضَرَّبَ کے معنے بار بار اور خوب مارنے کے ہوں گے۔یا ذَبَـحَ کا لفظ ہے اس کے معنے کسی کو ذبح کرنے یا ہلاک کرنے کے ہوتے ہیں اگر ذَبَّـحَ کہیں گے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اسے بار بار ذبح کیا یعنی ایک ہی وار میں ذبح نہیں کر دیا بلکہ بار بار چھری پھیر کر آہستہ آہستہ ذبح کیا مگر نَزَلَ جو نَزَّلَ کا مجرد ہے اس کے معنے اُتارنے کے نہیں ہوتے بلکہ اُترنے کے ہوتے ہیں یعنی وہ لازم ہے متعدی نہیں اس صورت میں نَزَّلَ کی زاء کا دوبارہ لانا صرف اسے متعدی بنائے گا بار بار یا آہستہ آہستہ اُتارنے کے معنے نہ دے گا۔کیونکہ عربی زبان کا اصل قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی حرف زیادہ کیا جائے تو وہ کچھ نہ کچھ زیادتی معنوں میں کرتا ہے اور اس جگہ لازم کو متعدّی بنا کر زیادتی حرف نے اپنی غرض کو پورا کر دیا ہے۔اس امر کا مزید ثبوت کہ خالی نَزَّلَ کے