تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 338

نہ اس وقت جب یہ مکمل طو رپر نازل ہو جائے گا۔حق یہی ہے کہ قرآن کریم نے ایسے رنگ میں روحانی امور پر بحث کی ہے کہ اوپر کے چاروں امو رکے مقابلہ میںاس قدر کلام میں بھی کوئی شخص اس کی کوئی مثل نہیں لا سکتا تھا جو اس وقت تک نازل ہو چکا تھا۔اور اس وقت کے لحاظ سے قرآن کہلاتا تھا۔سپریچوئلزم کا ابطال اس آیت کے مطالب میںایک اور امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جس کا بیان کرنا فائدہ سے خالی نہ ہو گا اور وہ یہ کہ اس میں علم الارواح کے ماہرین کو بھی جنہیں انگریزی میں سپر یچولسٹ کہتے ہیں مخاطب کیا گیا ہے اور جن سے مراد وہی ارواح ہیں جن سے تعلق پیدا کر کے روحانیت کی باریکیاں معلوم کرنے کے علم الارواح کے علماء مدعی ہیں اور بتایا ہے کہ قرآن کریم کی مثل نہ تو انسان خود لا سکتے ہیں اور نہ پوشیدہ ارواح کی مدد سے لا سکتے ہیں جن کی مدد کا ان کو دعویٰ ہے اس جگہ جنّ سے مراد وہ جنات نہیں کہ جو عوام الناّس میں مشہور ہیں کیونکہ اِن کی مدد سے کلام لانے کا مطالبہ ایک مہمل بات ہو جاتی ہے نیز اس آیت سے پہلے وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ (بنی اسرائیل :۸۶)بھی مذکور ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس جگہ ارواح کا ہی ذکر ہے نہ کہ جناّت کا۔(تفصیل کے لئے دیکھو اس آیت کی تفسیر بنی اسرائیل رکوع ۱۰ میں) دس سورتوں کا مطالبہ کفار کی فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ والے طمع کے جواب میں دوسری آیت جس میں کفار کا یہ اعتراض بیان کیا ہے کہ اس کے پاس خزانہ اور َملک نہیں۔اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر یہ درست ہے تو تم دس سورتیں مفتریات کی اس کے مقابلہ میں لے آئو۔پس اس جگہ سورتوں کو بطور خزانہ کے پیش کیا اور مفتریات کا مطالبہ کر کے بتایا ہے کہ اگر اس کا دعویٰ وحی یا ملائکہ کا جھوٹا ہے اور اس کے ساتھ ملائکہ نہیں آئے تو تم بھی زیادہ نہیں تو دس سورتیں ایسی پیش کرو جن کے متعلق دعویٰ ہو کہ ملائکہ نے باذنِ الٰہی ہم پر اتاری ہیں پھر دیکھو کہ تمہارا کیا انجام ہوتا ہے؟ اور اگر تم میں یہ جرأت نہیں کہ تم ایسا جھوٹا دعویٰ کر سکو تو محمد رسول اللہ کی نسبت کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ اس قدر افترا کر رہا ہے؟ اور اگر افترا کر رہا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی گرفت سے محفوظ کیوں ہے ؟ غرض اس جگہ عقلی مقابلہ کے ساتھ آسمانی مقابلہ کو بھی شامل کیا گیا ہے اور یہ جو اس جگہ فرمایا کہ دس سورتیں ایسی لائو اس کی یہ وجہ ہے کہ اس جگہ قرآن کریم کے ہر رنگ میں مکمل ہونے کا دعویٰ نہ تھا بلکہ کلام بعض القرآن کے متعلق تھا یعنی مخالف معترض تھا کہ اس کے بعض حصے قابل اعتراض ہیں جیسا کہ آیت فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ (ھود:۱۳)سے ظاہر ہے اور اسی طرح کفار کے اس سوال سے بھی ظاہر ہے کہ اس کے پاس خزانہ اور ملک نہیں۔پس اس جگہ سارے قرآن کے مقابلہ کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ تم قرآن میں جو بھی کمزور سے