تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 334

لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا۔پنجم سورۃ طور ع ۲ آیت ۳۴ و ۳۵ میں وہاں آیا ہے۔اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ۔ان مطالبات میں مقدار مطلوبہ کے اختلاف کی وجہ ان پانچ جگہوں میں سے سورہ بقرہ اور سورہ یونس میں تو ایک ہی قسم کا مطالبہ ہے۔باقی تین جگہ میں علیحدہ علیحدہ مطالبے کئے گئے ہیں۔چنانچہ سورہ بنی اسرائیل میں سارے قرآنِ کریم کی مثال کا مطالبہ کیا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر سارے جنّ و انس بھی اکٹھے ہو جائیں تو قرآنِ کریم کی مثال نہیں لا سکیں گے سورۃ ہود میں فرمایا ہے اگر تم سچے ہو تو دس سورتیں اپنے پاس سے بنا کر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے شائع کرو۔سورہ بقرہ اور سورہ یونس میں ایک سورۃ کا مطالبہ ہے اور سورہ طور میں ایک سورۃ کی بھی شرط نہیں ہے خواہ وہ ایک بات ہی بنا کر لے آئیں اب بظاہر یہ بات عجیب نظر آتی ہے کہ کہیں سارے قرآن کا مطالبہ ہے کہیں دس سورتوں کا مطالبہ ہے اور کہیں ایک سورۃ کا اور کہیں ایک ہی بات پر اکتفا کی گئی ہے اور طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرق کیوں ہے ؟بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ترتیب نزول کے لحاظ سے ایسا ہوا ہے۔آیات کی تحدّی و مطالبہ کی نظیر پہلے سارے قرآن کی مثال کا مطالبہ کیا۔جب وہ نہ لا سکے تو دس سورتوں کا مطالبہ کیا۔جب وہ بھی نہ لا سکے تو پھر فرمایا کہ ایک سورۃ ہی لے آئو۔جب وہ بھی نہ لا سکے تو پھر فرمایا کچھ ہی لے آئو۔خواہ ایک بات ہی ہو۔میرے نزدیک اس میں کچھ اشتباہ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ ان سورتوں میں سے کہ جن میں اس مضمون کا ذکر آیا ہے نزول کے لحاظ سے سب سے پہلے سورہ طور ہے اور اس میں قرآن کریم کی بجائے بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖۤ ہے۔یعنی اس جیسا کوئی کلام لے آئو اور شرط ایک سورۃ کی بھی نہیں رکھی گئی۔خواہ وہ کلام ایک سورۃ سے بھی کم ہو۔پس عقلاً یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ سورۃ طور میں تو بغیر مقدار مقرر کرنے کے مثل کا مطالبہ کیا گیا ہو۔اور اس کے بعد سورۃ بنی اسرائیل میں پورے قرآن کا مطالبہ کیا گیا ہو اور بعد میں اس مطالبہ کو گرا کر دس سورتوں میں اور پھر دس سورتوں سے گرا کر ایک سورۃ میں محصور کر دیا گیا ہو۔ان مطالبات میں مقدارمطلوبہ کے اختلاف کی وجہ دوسرے یہ کہ یہ کوئی واقعہ تو ہے نہیں کہ ہم اس سے عبرت پکڑیں بلکہ ایک چیلنج ہے جو ہم نے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے اب ہم دنیا کے سامنے کیا پیش کریں آیا یہ کہ سارا قرآن لائو یا یہ کہ دس سورتیں لائو یا ایک سورۃ یا ایک آیت لائو اگر ایک آیت کا مطالبہ کافی ہے تو ایک سورۃ کا مطالبہ کیوں کریں۔اور اگر ایک سورۃ کا لانا کافی ہو سکتا ہے تو دس سورتوں کا مطالبہ کیوں کریں۔اور اگر دس سورتوں کا