تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 28
حَمد صرف سچی تعریف کے لئے استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے اُحْثُوْا فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ (مسند احمد بن حنبل حدیث المقداد) جھوٹی تعریف کرنے والوں کے مونہوں پر مٹی ڈالو۔اسی طرح مدح ان اعمال کے متعلق بھی ہو سکتی ہے جو بغیر اختیار کے ہوں لیکن حمد انہی اعمال کے متعلق ہوتی ہے جو اختیار اور ارادہ سے کئے جائیں (مفردات امام راغب) پس حمد کا لفظ مدح سے بہرحال افضل ہے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق زیادہ مناسب۔یہ جو میں نے کہا تھا کہ ثنا ایسی تعریف پر دلالت کرتا ہے جو لوگوں میں پھیل جائے اور یہ بھی ایک خوبی ہے۔اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ حمد کے لفظ سے یہ خوبی تو پیدا نہ ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ الحمد کے الفاظ سے یہ خوبی بھی پیدا ہو گئی ہے کیونکہ ال استغراق کے معنی دیتا ہے یعنی تمام افراد کو اپنے اندر شامل کر لیتا ہے پس اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کے معنے ہوئے۔سب قسم کی تعریف۔اور ہر شخص کی تعریف اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور اسی کا حق ہے ان معنوں میں ذکر خیر کی کثیر اشاعت آ جاتی ہے بلکہ ثناء سے بھی زیادہ اس عبارت سے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اشاعت کا مفہوم نکلتا ہے۔رَبّ ربّ کے معنی اِنْشَائُ الشَّیْ ئِ حَالًا فَـحَالًا اِلٰی حَدِّ التَّـمَامِ کے ہیں (مفردات امام راغب) یعنی کسی چیز کو پیدا کر کے تدریجی طور پر کمال تک پہنچانا۔خالی تربیت کے معنی بھی یہ دیتا ہے۔خصوصاً جبکہ انسان کی طرف منسوب ہو مثلاً قرآن کریم میں ماں باپ کی نسبت آتا ہے۔كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا (بنی اسرائیل :۲۵) یا اللہ! میرے ماں باپ پر رحم فرما جس طرح انہوں نے اس وقت میری تربیت کی جبکہ میں چھوٹا تھا۔ربّ کے معنی مالک کے بھی ہوتے ہیں۔(اقرب) اسی طرح سردار اور مُطَاع کے بھی (اقرب) جیسے قرآن کریم میں حضرت یوسفؑ کا قول ہے اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ (یوسف:۴۳) اور مصلح کے بھی معنی ہیں (اقرب) ان معنوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہو سکتا ہے۔لیکن بغیر اضافت کے مطلق رب کا لفظ کبھی غیر اللہ کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا۔مثلاً رَبُّ الدَّارِ۔گھر کا مالک یا رَبُّ الْفَرَسِ۔گھوڑے کا مالک تو انسان کو کہہ سکتے ہیں مگرجب خالی یہ کہیں کہ رب نے یوں کہا ہے یا کیا ہے تو اس کے معنے صرف اللہ تعالیٰ کے ہوںگے (مفردات امام راغب) ربّ کے معنے مفسرین نے خالق کے بھی کئے ہیں۔( البحرالمحیط) اَلْعَالَمِیْنَ عَالَمٌ کی جمع ہے اور مخلوق کی ہر صنف اور قسم عالم کہلاتی ہے۔(مفردات امام راغب) اور عَالَمُوْنَ یا عَالَمِیْنَ کے سوا اس کی جمع عَلَالِمُ یا عَوَالِمُ بھی آتی ہے اور غیر ذوی العقول کی صفات میں سے ون یا یان سے صرف عَالَم یا یَاسَم دو لفظوں کی جمع بنتی ہے۔اور عالم مخلوق کو اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے خالق کا پتہ