تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 27

اس کے خزانے نہیں کھولے جائیں گے۔پانچویں اور چھٹی حکمت اس کی ان دو پیشگوئیوں کی طرف اشارہ کرنا ہے جو استثناء باب ۱۸آیت ۱۸ اور آیت ۲۰ میں مذکو رہیں او رجن کا ذکر مَیں اس سوال کی بحث میں کر آیا ہوں کہ ہر سورۃ کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ کیوں دہرائی گئی ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ ان پیشگوئیوں میں لکھا تھا کہ وہ خدا کا نام لےکر کلام الٰہی سنائے گا پس ان پیشگوئیوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے ضروری تھا کہ اسم کا لفظ اس جگہ بڑھایا جاتا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ۰۰۲ ہر (قسم کی) تعریف اللہ (ہی) کا حق ہے (جو٭) تمام جہانوں کا رب (ہے) حَلّ لُغَات۔اَلْحَمْدُ۔حَـمْدٌ کے معنی تعریف کے ہیں۔عربی میں تعریف کے لئے کئی الفاظ آتے ہیں۔حمد۔مدح۔شکر اور ثناء میں فرق حمد۔مدح۔شکر۔ثناء۔اللہ تعالیٰ نے حمد کا لفظ چنا ہے جو بلاوجہ نہیں۔شکر کے معنی احسان کے اقرار اور اس پر قدردانی کے اظہار کے ہوتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ لفظ استعمال ہو تو صرف قدردانی کے معنی ہوتے ہیں۔ظاہر ہے کہ حمد اس سے زیادہ مکمل لفظ ہے کیونکہ حمد صرف احسان کے اقرار کا نام نہیں ہے بلکہ ہر حسین شیَ کے حسن کے احساس اور اس پر اظہار پسندیدگی اور قدردانی کا نام بھی ہے۔پس یہ لفظ زیادہ وسیع ہے۔دوسرا لفظ ثَنَاء ہے۔ثناء کے اصل معنے دُہرانے کے ہوتے ہیں اور تعریف کو ثناء اس لئے کہتے ہیں کہ ذکر خیر لوگوں میں پھیل جاتا ہے اور لوگ وقتاً فوقتاً اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں (مفردات امام راغب) یہ ظاہر ہے کہ ثناء میں ذاتی تجربہ سے زیادہ لوگوں میں ذکر خیر کے پھیلنے کی طرف اشارہ ہے اور گو یہ ایک خوبی ہے لیکن بندہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو ذاتی تعلق ہوتا ہے اس پر یہ لفظ اس قدر روشنی نہیں ڈالتا جس قدر کہ مدح کا لفظ ڈالتا ہے کیونکہ یہ لفظ ذاتی تشکر اور احسان مندی پر زیادہ دلالت کرتا ہے۔مدح کے معنی اب رہا مَدَح۔سو مدح کا لفظ جھوٹی اور سچی دونوں قسم کی تعریف کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن نوٹ۔آیت اوّل اور آیت دوم میں صفت کے ترجمہ میں فرق ہے۔پہلی آیت میں ’’جو ‘‘ اور ’’ہے‘‘ کو ظاہر کیا گیا ہے لیکن دوسری آیت میں دونوں لفظوں کو خطوط میں رکھا گیا ہے اس کی وجہ ترجمہ کی دقت ہے۔دوسری آیت میں چونکہ فقرہ مکمل تھا۔وہاں ’’جو‘‘ اور ’’ہے‘‘ کے ظاہر کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔پہلی آیت میں فقرہ میں ’’ہے‘‘ کا لفظ ظاہر نہ تھا۔اس لئے وہاں مقدر کو ظاہر کرنا پڑا۔آئندہ بھی جہاں جہاں یہ فرق ہو گا ترجمہ میں فرق کیا جائے گا۔