تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 332

تکمیل کے لئے ضروری ہیں بیان ہیں (ج) یہ کتاب اس دعا کو پورا کرنے والی ہے جو سورۃ فاتحہ میں سکھائی گئی ہے یعنیاِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہمیں سیدھا راستہ دکھا وہ راستہ جو منعم علیہ گروہ یعنی انبیاء صدیقوں شہداء اور صالحین کو دکھایا گیا تھا (تفصیل کے لئے دیکھو نوٹ ۷سورۃ فاتحہ زیر آیت اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ) (۲) لَا رَیْبَ فِیْہِ یعنی (الف)اس میں کوئی بات ایسی بیان نہیں کی گئی جو فی الحقیقت قلق و اضطراب پیدا کرنے والی ہو بلکہ یہ ہر امر کے لئے دلائل و براہین مہیا کرتی ہے اور ہر گناہ اور نیکی کے اسباب بتا کر بدی کا دروازہ بند کرتی۔اور نیکی کے لئے راستہ کھولتی ہے (ب) اس میں کوئی بات ایسی بیان نہیں کی گئی جس سے خدا تعالیٰ پر یا کسی راستباز انسان پر یا کسی سچی تعلیم پر کوئی تہمت لگائی گئی ہو (ج) اس سے کوئی بات ایسی نہیں رہ گئی جس کا بیان کرنا روحانی تکمیل کے لئے ضروری ہو (د) اس میں کوئی تعلیم ایسی نہیں دی گئی کہ جو انسان کو مشقّت یا ہلاکت میں ڈالتی ہو۔اس کے بعد کی آیات میں مندرجہ ذیل امور بیان ہوئے ہیں۔(۳) هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ یہ صرف انسان سے ہی اعمال حسنہ کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ وعدہ کرتی ہے کہ جو لوگ اس کی تعلیم پر چلیں گے انہیں خدا تعالیٰ اپنے وصال کے مقام پر پہنچائے گا اور اپنے قرب میں جگہ دے گا اور اپنے منشاء سے انہیں مطلع فرمائے گا۔(۴) اس کا ضد سے انکار کرنے والے خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔(۵) جو لوگ اس سے اخلاص کا معاملہ نہ کریں گے خواہ عقیدہ کے لحاظ سے یا اخلاص عمل کے لحاظ سے وہ بھی آسمانی سزائوں میں مبتلا ہوں گے۔(۶) یہ ذاتِ باری کے متعلق سچی اور مدلّل تعلیم پیش کرتی ہے۔یہ وہ امو رہیں جو اس آیت سے پہلے گزر چکے ہیں اور مثل کا مطالبہ وہی سورۃ پورا کر سکتی ہے جو ان تمام امور پر مشتمل ہو مگر ظاہر ہے کہ ان امور میں مثل کا مطالبہ پورا کرنا انسانی طاقت سے بالا ہے ایسی مثل تو وہی کتاب پیش کر سکتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو۔چونکہ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ میں ایک ایسا دعویٰ قرآن کریم کی نسبت کیا گیا تھا کہ جو انسان کے بس کا ہی نہیں بلکہ اسے صرف خدا تعالیٰ ہی پورا کر سکتا ہے اس لئے آخر میں یہ بھی فرما دیاوَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ تم اپنے معبودوں کو بھی بلا لو کہ وہ تم کو الہام کریں کیونکہ ایک دعویٰ اس کتاب کا یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمانی الہام کا دروازہ کھلے گا۔