تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 327

سچی گواہی دینے والا۔اَلَّذِیْ لَایَغِیْبُ عَنْ عِلْمِہٖ شَیْ ءٌ جس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہ ہو۔(اقرب) پس وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ کے یہ معنے ہوںگے (۱) کہ تم اپنے معاونوں اور دوستوں کو بلا لو۔(۲) تم اپنے گواہوں کو بلا لو (۳) اپنے معبودوں کو بلا لو۔دُوْنَ : دُوْنَ کے ایک معنی غَیْرَکے ہیں۔یعنی ِسوا (اقرب) پس دُوْنَ اللّٰہِ کے معنے ہوں گے غَیْرُ اللّٰہِ یعنی اللہ کے سوا۔تفسیر۔اس آیت سے پہلی دو آیات میں قرآن کریم کا سب سے پہلا حکم، حکم کی شکل میں نازل ہوا تھا۔اس سے پہلے بیشک قرآنی خوبیاں اور متقیوں کے فرائض اور سورۃ فاتحہ میں مومنوں کی دعائوں، ارادوں او رکاموں کا ذکر ہوا تھا مگر انسان کو خدا کی طرف سے مخاطب کر کے کوئی حکم نہ سورۃ فاتحہ میں بیان ہوا تھا اور نہ سورۂ بقرہ کی ان آیات میں جو اس سے پہلے گزر چکی ہیں اور یہ ایک طبعی امر ہے کہ انسان خطاب پر ہی اعتراض کی طرف مائل ہوتا ہے کیونکہ جب تک اسے مخاطب نہ کیا جائے وہ سمجھتا ہے کہ اس کلام سے مجھے کیا تعلق ہے؟ لیکن جب اس کو مخاطب کیا جائے تو فوراً اس کی توجہ یا ماننے کی طرف یا غور کی طرف یا مقابلہ کی طرف مائل ہو جاتی ہے پس پہلے حکم کے بعد جو اس کا لازمی نتیجہ نکلا یعنی وہ ردّ عمل جو قرآن کریم کے حکم کو سن کر کفار کے دل میں پیدا ہوا اس کا ذکر آیت زیر تفسیر میں کیا گیا ہے اور وہ رد عمل یہ تھا کہ یہ کلام تو ہم کو کوئی ایسا اچھا معلوم نہیںہوتا اس نے تو ہمارے امن کو برباد کر دیا ہے اور ہمارے دلوں کو اس یقین سے بھی محروم کر دیا ہے جو اس سے پہلے ہم کو حاصل تھا اور شکوک و شبہات کا دروازہ کھول دیا ہے۔یہ استدلال جو میں نے کیا ہے اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا کے الفاظ سے کیا ہے کیونکہ رَیْب کے معنے جب شک کے ہوں تو شک کی طرح اس کا صلہ بھی فِیْ آنا چاہیے مثلاً کہیں گے فِیْہِ رَیْبٌ یہ امر شک پیدا کرنے والا ہے چنانچہ قرآن کریم میں ہے اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا (الکہف :۲۲)موعود ساعت کے بارہ میں کوئی شک نہیں۔اسی طرح فرماتا ہے وَ السَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيْهَا (الجاثیۃ :۳۳) ساعت مقررہ کے آنے میں کوئی شک نہیں۔قرآن کریم میں ایک اور جگہ پر مِنْ اس کے بعد استعمال کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے۔اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ (الحج :۶) مگر اس کے معنے بھی یہ کئے جاسکتے ہیں کہ اگر بَعْثکے مسئلہ کے سبب سے تم شکوک میں پڑ گئے ہو۔یہ نہیں کہ بعث کے مسئلہ میں تم کو شک ہے کیونکہ کفار کو تو بعث کے بارہ میں شک نہ تھا بلکہ و ہ قطعی طو رپر اس کا انکار کرتے تھے۔رَیْب اور شَک میں فرق۔رَیْب اور شَک میں یہ فرق ہے کہ شک انسان کرتا ہے لیکن ریب انسان نہیں