تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 326
وَالْاَوَّلُ اَقْوٰی اور بعض اَئمہ نے کہا ہے کہ عبودیت اللہ تعالیٰ کی قضا کے ساتھ راضی رہنے کو کہتے ہیں اور عبادت وہ فعل ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ راضی رہتا ہے لیکن بقول مصنف تاج العروس پہلے معنے زیادہ صحیح ہیں نیز اَلْعَابِدُ کے معنے ہیں اَلْمُوَحِّدُ توحید پرست اور اَلتَّعْبِیْدَۃُ کے معنی ہیں اَلْعُبُوْدِیَّۃُ عاجزی کرنا۔کہتے ہیں مَا عَبَدَکَ عَنِّیْ اَیْ مَا حَبَسَکَ کس چیز نے تجھ کو مجھ سے روکا اور جب عَبَدَ بِہٖ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے لَزِمَہٗ وَلَمْ یُفَارِقْہُ اس کے ساتھ اس طرح چمٹ گیا کہ اس سے جدا نہ ہوا۔قَالَ ابنُ الْاَنْبَارِیْ فُلَانٌ عَابِدٌ وَھُوَ الْخَاضِعُ لِرَبِّہِ الْمُسْتَسْلِمُ الْمُنْقَادُ لِاَمْرِہٖ ابن اَنباری کہتے کہ عابد کے معنے ہیں وہ شخص جو اپنے رب کے سامنے عاجزی کرنے والا ہو اور اس کے حکموں کے سامنے سر تسلیم خم کرنیوالا ہو وَالْمُتَعَبِّدُ۔اَلْمُنْفَرِدُ بِالْعِبَادَۃِ اور وہ شخص جو عبادت میں ہی لگا رہے اسے مُتَعَبِّد کہتے ہیں۔(تاج العروس) الغرض عبد کے معنی کے اندر انتہائی عاجزی ،تذلل ، خضوع، توحید پرستی، خدمت گزاری، کسی کے ساتھ چمٹ جانا اور مفارقت اختیار نہ کرنا اور دنیا سے اپنے آپ کو روک کر اللہ کا ہی ہو جانے کی طرف اشارہ ہے۔سُوْرَۃٌ۔سُوْرَۃٌکی تشریح کے لئے دیکھو تعارف سورۃالفاتحۃ۔شُھَدَآءُ۔شُھَدَآءُ شَھِیْدٌ کی جمع ہے اور یہ شَھِدَ سے صفت مشبّہ کا صیغہ ہے۔شَھَادَۃٌ اور شُہُوْدٌ (جو شَہِدَ کے مصدر ہیں) کے معنی ہیں اَلْحُضُوْرُ مَعَ الْمُشَاھَدَۃِ اِمَّا بِالْبَصَرِ اَوْ بِالْبَصِیْرَۃِ کہ کسی واقعہ کے وقت حاضر ہو کر اس کا مشاہدہ کرنا خواہ وہ مشاہدہ ظاہری آنکھ سے ہو یا بصیرت سے وَقَدْ یُقَالُ لِلْحُضُوْرِ مُفْرَدًا اور کبھی صرف حاضر ہونے پر شَہَادَۃٌ اور شُہُوْدٌ کا لفظ بولا جاتا ہے وَالشَّہَادَۃُ قَوْلٌ صَادِرٌ عَنْ عِلْمٍ حَصَلَ بِمُشَاھَدَۃِ بَصِیْرَۃٍ اَوْ بَصَرٍ اور کسی واقعہ کے متعلق اس بیان کو جو ایسے علم کے ساتھ دیا جائے جو آنکھ کے ساتھ مشاہدہ کرنے یا بصیرت کے ذریعہ حاصل ہوا ہو شہادت کہتے ہیں۔وَقَدْ یُعَبَّرُ بِالشَّھَادَۃِ عَنِ الْحُکْمِ وَالْاِ قْرَارِ اور کبھی شہادت کے لفظ سے مراد کسی بات کا اقرار ہوتا ہے وَقَوْلُہٗ مَا شَہِدنَا اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا اَیْ مَا اَخْبَرْنَا اور آیت مَا شَھِدْنَا… الخ میں شہادت سے مراد خبر ہے کہ ہمیں جس چیز کا علم تھا اسی کی خبر دی نیز شَہَادَۃٌ کے معنے یقینی خبر کے کئے گئے ہیں وَادْعُوْا شُھَدَآ ءَ کُمْ کے معنے کرتے ہوئے لکھا ہے۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَعْنَاہُ اَعْوَانُـکُمْ کہ ابن عباسؓ نے شُہَدَاءَ کے معنے مددگاروں کے کئے ہیں وَقَالَ مُجَاھِدٌ اَ لَّذِیْنَ یَشْہَدُوْنَ لَکُمْ اور مجاہد کے نزدیک شہداء سے مراد وہ لوگ ہیں جو گواہی دیں۔وَقَالَ بَعْضُہُمْ اَلَّذِیْنَ یُعْتَدُّ بِحُضُوْرِھِمْ کہ شہداء ان لوگوں کو کہیں گے جن کی گواہی کی کوئی وقعت سمجھی جائے (مفردات) اَلشَّھِیْدُ۔اَلشَّاھِدُ گواہ۔اَ لْاَمِیْنُ فِیْ شَہَادَتِہٖ۔