تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 317

کا حصہ ہونے کے انہی علوم کا سرچشمہ ہے جو ارسطو اور افلاطون کے وقت میں وہاں سے پھوٹ رہا تھا۔کیا ہندوستان میں اب ان ترقیات کے زندہ آثار موجود ہیں جو سابق زمانوں میں یہاں پائے جاتے تھے۔مصر نے اپنے وقت میں کس قدر ترقی کی اس کا ایک ادنیٰ کرشمہ اس کی ممیوں (مصالحوں سے محفوظ کردہ لاشوں) میں نظر آتا ہے جس کے نسخے کو اب تک بھی یورپ معلوم نہیں کر سکا۔لیکن اب ان علوم کا نشان کہاں ہے؟؟ پس جب تہذیب اور تمدن کے دوروں کے بعد جہالت اور کم علمی کے دور آتے رہے ہیں تو اس میں کیا استبعاد ہے کہ توحید کے بعد شرک کے دور آتے رہے ہوں اورکس بناء پر ان شرک کے دوروں کو توحید کے دوروں پر مقدم سمجھا جائے اور اگر شرک کے دور کا توحید کے دو رپر تقدّم ثابت نہ ہو تو ان فلسفیوں کے خیال کی بنیاد کس بناء پر ہے؟اس اِمکان کے پیدا ہونے کی صورت میں تو وہ خود بخود باطل ہو جاتا ہے۔ہندو مذہب کی کتب سے اس بات کا ثبوت کہ توحید کا دور شرک کے دور سے پہلے تھا میں اس سوال پر روشنی ڈالنے کے لئے موجودہ مذاہب ہی کی مثال پیش کرتا ہوں۔ہندو قوم کے ایک بزرگ جو دو ہزار سال پہلے گزر چکے ہیں ان کا کلام اب تک موجود ہے اور وہ حضرت کرشن ہیں۔ان کی کتاب گیتا ایک معروف کتاب ہے۔اس کتاب کی تعلیم کو آج سے پانچ سو سال پہلے کے ہندوئوں کے عقائد سے مقابلہ کر کے دیکھو کہ کوئی لگائو بھی ان میں پایا جاتا ہے؟ آج سے پانچ چھ سو سال پہلے جب مسلمان اس ملک میں آئے ہیں گھر گھر میں بت خانہ تھا۔تو ہم پرستی تھی۔مذہب کا حقیقی وجود کہیں بھی پایا نہ جاتا تھا مگر کیا گیتا میں بھی اِن بتوں کا کہیں ذکر ہے جن کی حکومت آج سے چند سو سال پہلے ہندوستان میں تھی کیا گیتا میں بھی ان توہمات کی کوئی سند ہے جو اس وقت ملک میں پھیلے ہوئے تھے۔اگر یہ درست ہے کہ شرک کا دور پہلے تھا اور اس سے آہستہ آہستہ توحید کا خیال پیدا ہوا تو چاہیے تو یہ تھا کہ پہلے توہمات کا راج ہوتا۔بتوں کا زور ہوتا او ربعد میں توحید آتی لیکن یہاں توہمیں یہ نظر آتا ہے کہ پہلے توحید کا دور تھا اور کرشن جی جیسا مؤحد انسان ہندوستان کا رہنما تھا مگر بعد میں شرک اور توہم پرستی نے جگہ لے لی۔اگر کہو کہ بعد میں لوگ بگڑ کر مشرک ہو گئے تو میں کہتا ہوں کہ یہی خیال ان دوسرے شرک کے دوروں کی نسبت کیوں درست نہیں جو ان لوگو ںکو دھوکا دینے کا موجب ہوئے ہیں؟ اصل سوال تو یہ تھا کہ ارتقاء چاہتا ہے کہ پہلے ادنیٰ حالت ہو بعد میں اچھی ہو جائے مگر جب یہ بات غلط ثابت ہو گئی تو اس عقیدہ کی بنیاد گر گئی۔تورات سے اس بات کا ثبوت کہ توحید کا دور شرک کے دور سے پہلے تھا دوسری مثال یہودی مذہب کی ہے تورات کو پڑھ کر دیکھ لو اس سے صاف ثابت ہے کہ توحید کے دوروں کے بعد یہود پر شرک کے دور