تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 315

اسلام نے بھی اسی عقیدہ کو پیش کیا ہے جیسا کہ اگلے رکوع میں آدم کے ذکر میں آئے گا کہ انسان کے نمودار ہوتے ہی خدا تعالیٰ نے پہلے انسان کواپنے کلام سے مشرف کیا اور اپنے وجود کی اسے خبر دی۔ان تعلیمات کی موجودگی میں مذہب کے دعویٰ اور ان خیالات کا اجتماع کسی صورت میں نہیں ہو سکتا اور یقیناً دونوں میں سے ایک کو باطل کہنا پڑے گا پس میں ان دونوں اصول کے درمیان موازنہ کر کے بتاتا ہوں کہ کونسا درست اور کونسا غلط؟ اس خیال کی جو خدا تعالیٰ کے متعلق فلاسفروں نے پیش کیا ہے بنیاد ان دو باتو ںپر ہے۔اوّل وحی الٰہی کے وجود سے انکار۔دوم مسئلہ ارتقاء کا غلط مفہوم۔وحی الٰہی کا انکار محض اس لئے پیدا ہوا ہے کہ ان فلاسفروں کو اس کا تجربہ نہیں اور وہ مسیحی ممالک میں پیدا ہوئے ہیں جن میں ایک لمبا عرصہ سے الہام کا وجود ناپید ہے۔چونکہ اُنہوں نے نہ خود الہام پایا اور نہ الہام پانے والوں کو دیکھا وہ اس وہم میں مبتلا ہو گئے کہ وحی کا وجود ہی کوئی نہیں۔اور جب وحی الٰہی کے منکر ہوئے تو خدا تعالیٰ کے خیال کے لئے کوئی عقلی وجہ تلاش کرنے لگے اور چونکہ ارتقاء کے مسئلہ کی طرف ان کی توجہ اِن دنوں ہو رہی تھی اسے بھی اِس مسئلہ کے ماتحت حل کرنا چاہا اور اس غلط عقیدہ میں مبتلا ہو گئے۔جیسا کہ میں سورۃ ھٰذا (زیر آیت وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ) میں بتا آیا ہوں قرآنِ کریم نہ صرف وحی ٔ الٰہی کا قائل ہے بلکہ اس کے وجود کو ہر زمانہ میں تسلیم کرتا ہے اور اگراِس کا یہ دعویٰ صحیح ثابت ہو تو اِس فلسفہ کی جڑ آپ ہی آپ اُکھڑ جاتی ہے۔قرآنِ کریم اپنی نسبت دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا ہر ہر لفظ لفظی وحی کی قسم سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلعم پر نازل کی اور وہ اس امر کا بھی مدعی ہے کہ اس سے پہلے ابتدائِ آفرینش سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں اور ان کے اتباع پر وحی نازل کرتا چلا آیا ہے اور اپنے وجود کو ان پر ظاہر کرتا چلا آیا ہے اور وہ اس امر کا بھی مدعی ہے کہ قرآن کریم کے ماننے والوں پر بھی وحی نازل ہوتی رہے گی۔چنانچہ اِس زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود مہدی مسعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ بھی وحی الٰہی پانے کے مدعی تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ قرآن کریم کی برکت سے اور اس کی خدمت کے لئے ان پر بھی وحی نازل ہوتی ہے او رہزار ہا الہام انہیں ہوئے جو کتاب تذکرہ کی صورت میں یکجائی طور پر ان کی جماعت نے شائع کر دیئے ہوئے ہیں۔ان میں ہزاروں پیشگوئیاں اور معجزات پر مشتمل کلام ہے جو پورا ہو چکا ہے او رپورا ہو رہا ہے۔اس تازہ مشاہدہ کے بعد ہم کس طرح ان فلسفیوں کی باتوں کو تسلیم کر سکتے ہیں۔بلکہ اِن نشانات کو دیکھنے کے بعد ہماری نگہ میں تو یہ لوگ اِس روایتی لال بجھکڑ