تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 26
زائد ہے اسی طرح جب اللہ پر لام آتا ہے یعنی لِللّٰہ <mark>کہتے</mark> ہیں۔تو الف گر جاتا ہے یہ بھی ثبوت ہے کہ یہ اصلی ہمزہ نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہمزہ کا گر ج<mark>ان</mark>ا زائد ہمزہ کی علامت نہیں۔اسم اور ابن کے ہمزے زائد نہیں ہیں بلکہ <mark>دوسرے</mark> حرف کے قائم مقام ہیں اور یہ بھی گر جاتے ہیں۔چن<mark>ان</mark>چہ بِسْمِ اللّٰہِ میں اسم کا ہمزہ گر گیا ہے حال<mark>ان</mark>کہ وہ ہمزہ زائد نہیں بلکہ تبدیل شدہ ہے پس معلوم ہوا کہ ہمزہ کا وصلی ہونا یا گر ج<mark>ان</mark>ا اس کے زائد ہونے کا ثبوت نہیں۔<mark>غرض</mark> اللہ کے لفظ کا استعمال اسلام اور اسلام سے پہلے دونوں ہی زم<mark>ان</mark>ہ میں اس کے عَلَم اور غیر مشتق ہونے پر دلالت کرتا ہے او رجو دلائل اس کی <mark>بعض</mark> خصوصیات کی وجہ سے اس کے مشتق ہونے کے دیئے گئے ہیں وہ درست نہیں ہیں بلکہ دوسری مثالوں سے <mark>ان</mark> کی غلطی ثابت ہے۔بِسْمِ اللّٰہِ میں اسم کی زیادتی ایک اور سوال اس جگہ پیدا ہوتا ہے کہ کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ کی مدد م<mark>ان</mark>گتے ہوئے قرآن کریم پڑھتا ہوں او رکہا یہ گیا ہے کہ اللہ کے نام کی مدد سے پڑھتا ہوں۔نام کا لفظ کیوں زیادہ کیا گیا ہے ؟ اس کے مفصّلہ ذیل جواب ہیں۔(۱) باء استع<mark>ان</mark>ت کے علاوہ قسم کے لئے بھی آتی ہے اگر خالی بِاللّٰہ ہوتا تو شُبہ ہو سکتا تھا کہ شائد قسم کھائی گئی ہے پس اس شبہ کے ازالہ کے لئے اسم کا لفظ بڑھایا گیا (۲) اللہ تعالیٰ کی ذات مخفی ہے اور صفات ہی سے وہ پہچ<mark>ان</mark>ا جاتا ہے۔اس لئے اسم کا لفظ بڑھایا گیا۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے ذکر سے مُراد بھی یہی ہے کہ میں خدا تعالیٰ سے اس کی رحم<mark>ان</mark>یّت اور رحیمیّت کا واسطہ دے کر مدد طلب کرتا ہوں (۳) یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے <mark>ناموں</mark> میں بھی برکت ہے اور <mark>ان</mark> کی طرف <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو توجہ رکھنی چاہیے (۴) قرآن کریم ایک بند خز<mark>ان</mark>ہ ہے اور جب کوئی کسی ایسے مک<mark>ان</mark> میں جس میں داخلہ بلا اجازت ممنوع ہو داخل ہوتا ہے تو اس کے محافظوں کو یا مکین کو مالک کا حکم یا اجازت دکھاتا ہے یا اس کا ذکر کرتا ہے چن<mark>ان</mark>چہ پولیس جب کسی کے گھر میں داخل ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ حکومت کے نام پر ہم داخل ہو رہےیا فلاں مال پر قبضہ کرتے ہیں پس اس جگہ نام کا لفظ بڑھا کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو شخص بِسْمِ اللّٰہِ پڑھ کر قرآن کریم پڑھتا ہے وہ گویا قرآن کریم کی خدمت پر مامور فرشتوں سے کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خود اس سورۃ کے پڑھنے کا حکم دیا ہے پس میرے لئے اس کے مطالب کے دروازے کھول دو اور وہ اختصاراً اس مضمون کو یوں ادا کرتا ہے کہ اللّٰہ، رَحْمٰن ، رَحِیْم کے نام پر اس خز<mark>ان</mark>ہ کے کھولے ج<mark>ان</mark>ے کی میں درخواست کرتا ہوں۔ظاہر ہے کہ جو اس طرح خدا تعالیٰ کے اذن سے قرآن کریم کی طرف متوجہ ہو گا۔اس کے علوم سے حصہ پائے گالیکن جو اس کے اِذن اور اس کے نام سے توجہ نہیں کرے گا بلکہ شرارت اور بُغض سے توجہ کرے گا اس کے لئے