تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 312
انسان کے لئے بچھونا ہے تو آسمان چھت کا کام دیتا ہے اسی طرح روحانی دنیا کا حال ہے انسان کے اندر بیشک عقل موجود ہے مگر عقل کا وجود آنکھ کی طرح ہے جب تک روحانی سورج کی روشنی یعنی الہام اس کے ساتھ نہ ملے وہ صحیح طور پر کام نہیں کر سکتی۔فطرتی تقاضے بیشک نہایت پاک ہیں لیکن دنیوی لالچوں سے مل کر وہ گندے ہو جاتے ہیں اور الہام کے آسمانی پانی کے ذریعہ سے ہی پاک ہوتے ہیں پس اللہ تعالیٰ سے تعلق کے بغیر انسان کامیاب زندگی کسی صورت میں بسر نہیں کر سکتا۔او راللہ تعالیٰ نے مادی زندگی کو زمین اور آسمان دو حصوں کے ساتھ متعلق کر کے روحانی عالم کی طرف راہنمائی کی ہے اور بتایا ہے کہ روحانی امور میں بھی صرف زمینی سامانو ںپر کفایت نہ کر لینا اور اپنی عقل اور اپنی فطرت کو ہی اپنے لئے کافی نہ سمجھ لینا کہ جس طرح مادی دنیا آسمانی امداد کی محتاج ہے روحانی دنیا بھی آسمانی امداد کی ہر وقت محتاج ہے جس طرح مادی دنیا میں زمین کے اوپر آسمان ہے اسی طرح روحانی دنیا میں انسانی دل اور دماغ زمین ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فیوض و ہدایات آسمان ہیں یہ دونوں مل کر ہی روحانی دنیا کو کامل کرتے ہیں۔ان کے ملے بغیر وہ دنیا نامکمل اور بے فائدہ ہو جاتی ہے۔فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ کے الفاظ سے الہام الٰہی کے نزول کی طرف لطیف اشارہ فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا میں اسی مضمون کی مزید تشریح کی ہے اور بتایا ہے کہ زمین میں قوتِ نمو موجود ہے مگر کیا آسمانی پانی کے بغیر وہ پھل پیدا کر سکتی ہے پھر تم کس طرح خیال کرتے ہو کہ تمہارے دماغ خواہ کیسے ہی زرخیز کیوں نہ ہوں اور کیسی ہی نمو کی قابلیت کیوں نہ رکھتے ہوں وہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر اچھے پھل دینے لگیں گے؟ جس طرح بارش بند ہو جائے تو زمین کے پانی بھی خراب ہو جاتے ہیں اور زمین اچھے پھل دینے سے قاصر ہو جاتی ہے اسی طرح الہام الٰہی نہ آئے جو خدا تعالیٰ کی عبادت کا نتیجہ ہے تو انسانی دماغ بھی پاکیزہ خیالات پیدا کرنے سے جو روحانی ثمرہ ہوتے ہیں قاصر رہ جاتے ہیں پس یہ دعوے نہ کرو کہ ہم اپنی عقلوں سے اپنے لئے ہدایت نامے تجویز کر سکتے ہیں۔اور کریں گے۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو تم کو ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر اعلیٰ تک پہنچایا اور تم اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کو اس کے مقام سے نیچے گراتے ہو اور اس کے اَنْدَاد تجویز کرتے ہو جن کو انداد بناتے ہو وہ نہایت معمولی ہستیاں ہیں۔پس تم دوسرے لفظوں میں یہ کہتے ہو کہ اللہ بھی ایسا ہی ہے۔ہم نے تو تم کو مخلوقات میں لاشریک بنا دیا۔زمین آسمان کو تمہاری خدمت میں لگا دیا مگر تم نے ہم کو جو فی الحقیقت لاشریک تھے باشریک بنا دیا۔کیسے جاہل اور اندھے اور قابلِ افسوس ہیں وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے ان احسانات کے ہوتے