تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 310
کہآپؑ سیالکوٹ میں ایک مکان پر تھے کہ ایک معمولی سی آواز چھت میں پیدا ہوئی آپؑ نے سب ساتھیوں کو جگایا جن میں لالہ بھیم سین صاحب وکیل بھی تھے او رکہا کہ فوراً نیچے اُترو مگر انہوں نے ہنسی اُڑائی اور کہا کہ آپؑکو وہم ہو گیا ہے مگر پھر تھوڑی دیر بعد آپ نے سب کو اُٹھا کر دوستانہ جبر سے اُترنے پر مجبور کر دیا۔پھر اُن سب سے کہا کہ پہلے تم اُترو کیونکہ یہ چھت تب تک قائم ہے جب تک میں اس پر ہوں اس لئے میں سب سے آخر میں اُتروں گا۔جب سب دوست سیڑھیاں اُتر چکے تو پھر آپ اُترے اور جونہی آپ سیڑھی پر آئے چھت یکدم زمین پر آ رہی۔یہ سب امور جو دنیا کی پیدائش سے اس وقت تک ظاہر ہوتے چلے آئے ہیں اور ظاہر ہوتے رہیں گے اس امر کا ثبوت ہیں کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا ایک وجودہے اور اس سے تعلق پیدا کرنے سے ہی انسان کامل طو رپر ہلاکت سے بچ سکتا ہے۔اور یہی اس آیت کا مطلب ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ز مین اور آسمان کو خدا تعالیٰ نے ہی تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔پس ان سے کامل فائدہ تم اسی سے تعلق پیدا کر کے حاصل کر سکتے ہو اور نقصانات سے بھی تم اسی سے تعلق پیدا کر کے محفوظ ہو سکتے ہو۔یاد رہے کہ اس فائدہ سے وہ ظالمانہ فائدہ مراد نہیں جو ظالم بادشاہ اور جابر رئوسا اُٹھاتے ہیں کیونکہ وہ فائدہ اُٹھانا نہیں بلکہ لعنت مول لینا ہے۔پس خدا رسیدہ لوگوں کی زندگی کے مقابلہ پر ظالم بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں کے حالات رکھ کر مقابلہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ انہوں نے عزت نہیں بلکہ ذلت حاصل کی تھی۔سَمَآء سے مراد یاد رہے کہ اس آیت میں سَمَآئسے مراد بلندی ہے نہ کہ کوئی ٹھوس دائرہ جیسا کہ عوام الناس کا خیال ہے اور اس بلندی سے مراد وہ تمام فضاء ہے جس میں ستارے اور سیارے پائے جاتے ہیں اور چھت بنانے سے یہ مراد ہے کہ بلندی کو حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے۔حفاظت کے لئے چھت کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ چھت بھی بہت سی تکالیف سے حفاظت کا ذریعہ ہوتی ہے اور یہ ایک محاورہ ہے۔بلندی کو حفاظت کا ذریعہ بنایا سے یہ مطلب ہے کہ انسان کی زندگی کے قیام کے لئے جن اشیاء کی ضرورت ہے وہ بلندی سے تعلق رکھتی ہیں۔پانی بھی بلندی سے برستا ہے۔ہوا بھی اوپر ہے۔اسی طرح سورج، چاند وغیرہ ہیں اور انہی اشیاء سے وہ سب چیزیں تیار ہوتی ہیں جن سے انسان زندہ رہتا ہے۔روحانیات میں بھی انسان اوپر کا محتاج ہے۔سَمَآء کے معنے بادل مِنَ السَّمَآءِ مَآءً سے مراد یہ ہے کہ بادلوں سے پانی اُتارا ہے۔اس جگہ سَمَآء سے مراد فضاء کی بلندی نہیں بلکہ بادل ہے اور بادل کے معنے استعارۃً نہیں کئے گئے بلکہ لغت سے ثابت ہیں اور قرآن شریف میں دوسری جگہوں پر بھی اس معنے میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَيْهِمْ مِّدْرَارًا۔(الانعام :۷)