تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 309

ہیں لیکن یہ سب سامان ظاہر نہیں ان میں سے ظاہر بھی ہیں اور مخفی بھی۔پس انسان کو اس دنیا کے پیدا کرنے والے رب سے تعلق پیدا کرنا چاہیے تاکہ وہ ان سے صحیح فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور ان کی مخفی مضرّتوں سے محفوظ رکھے کیونکہ انسان ساری تدبیریں کر لینے کے بعد بھی ارضی و سماوی تغیرّات کے ضرروں سے کامل طور پر نہیں بچ سکتا خدا تعالیٰ ہی پوری طرح اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کا انبیاء کو خارق عادت طور پر ضرروں سے محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو دیکھو! لوگ ان کے تباہ کرنے کے لئے کیسے جتن کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کی سب تدبیرو ںکو باطل کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے دشمنوں نے طرح طرح کے حملے کئے۔آپؐ کو زہر دینے کی کوشش کی گئی مگر آپؐ کے ایک ساتھی تو شہید ہو گئے لیکن آپؐ جن کو زہر دینے کی اصل کوشش تھی محفوظ رہے۔آپؐ پر خفیہ کمینوں میں بیٹھ کر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر دشمن ناکام رہا۔علیحدگی میں آپؐ پر حملہ کرنے کی تدبیر کی گئی مگر اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی دشمن کو نامراد رکھا۔گھر بلا کر اوپر سے پتھر پھینکنے کا منصوبہ یہود نے کیا مگر اللہ تعالیٰ نے الہام سے خبردار کر دیا اور دشمن کو شرارت کا اقرار کرنا پڑا۔غارِ ثور میں دشمن سر پر پہنچ کر جس طرح لوٹا آج تک دنیا اس پر حیران ہے۔یہ سب کچھ زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا کے فضلوں سے ہوا۔آپؐ نے اس سے تعلق جوڑا تو اس نے آپؐ سے جوڑا۔اور سارے عالم کو آپؐ کی خدمت میں لگا دیا۔حضرت مسیح ؑ ناصری کو جب ان کے دشمنوں نے اپنی طرف سے صلیب پر لٹکا کر مار ہی دیا تھا خدا تعالیٰ نے کس طرح ایک تاریک آندھی بھیج کر حاکم اور یہود دونوں کو مجبور کر دیا کہ وہ ان کو وقت سے پہلے صلیب پر سے اُتار لیں اور اس طرح حضرت مسیح اس ذلت کی موت سے محفوظ ہو گئے جو دشمنوں نے ان کے لئے تجویز کی تھی۔خدا تعالیٰ کے خارق عادت طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو محفوظ رکھنے کے متعلق بعض واقعات کا ذکر اس زمانہ میں بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ سے ایسے بیسیوں واقعات ظاہر ہوئے۔آپؐ کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ طاعون سے آپ کا گھر محفوظ رہے گا سو باوجود اس کے کہ سالہا سال تک قادیان میں طاعون پھیلتی رہی اور آپؑ کے گھر کے دائیں بائیں بھی اس سے کئی موتیں ہوئیں مگرآپؑ کے گھر میں کوئی حادثہ نہ ہوا۔آپ کی جوانی کا ایک واقعہ ہے جس کے بعض ہندو صاحبان بھی گواہ ہیں چنانچہ مسٹر جسٹس کنور سین جو جموں کی ریاست کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ان کے و الد لالہ بھیم سین بھی اس کے گواہ تھے او رانہو ںنے اپنے صاحبزادے کے سامنے اس کے متعلق شہادت بھی دی ہوئی ہے جن سے اب بھی پوچھا جا سکتا ہے وہ واقعہ یوں ہے