تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 308

کیوں <mark>بعض</mark> ا یاّم میں گر کر سر کو چوٹ آنے کے حادثات زیادہ ہوتے ہیں اور <mark>بعض</mark> ا یاّم میں گر کر لاتوں کو زیادہ ضربیں آتی ہیں۔میں نے اپنے ہسپتال کے ڈاکٹر صاحب سے اس کا ذکر کیا اور <mark>ان</mark>ہو ںنے اس کا خیال رکھا تو بعد میں کئی دفعہ اس کی رپورٹ کی کہ آج فلاں حادثہ کے مریض کثرت سے آ رہے ہیں حال<mark>ان</mark>کہ وہ تکلیفیں بیماریوں کا نتیجہ نہ تھیں کہ <mark>ان</mark>ہیں وبا ءکہا جائے بلکہ حادثات تھے جو ایک ہی صورت میں ظاہر ہوئے اور <mark>لطیف</mark>ہ یہ کہ چوٹوں کے مریض آنے شروع ہوئے تو کبھی پے در پے سر کی چوٹوں کے مریض آئے اور کبھی پے در پے لاتوں کی چوٹوں کے مریض آئے اس تجربہ کے بعد <mark>ان</mark>ہوںنے تسلیم کیا کہ واقعہ میں یہ امر ایک حیرت <mark>ان</mark>گیز ق<mark>ان</mark>ون قدرت کے مخفی اسباب پر دلالت کرتا ہے۔زمین و آسم<mark>ان</mark> کا ملکر سارے عالم پر مختلف اثرات ڈالنا <mark>غرض</mark> علاوہ اس کے کہ بارشوں، خشک سالی، کھیتوں کے پکنے یا موسمی تغیرات کا تعلق اجرام فلکی سے ہے۔حوادث اور <mark>بعض</mark> غیر متعدی بیماریوں کا تعلق بھی اجرام فلکی سے ہے چن<mark>ان</mark>چہ میں نے یہ تجربہ کیاہے کہ جس علاقہ میں پورا چ<mark>ان</mark>د گرہن ہو اس علاقہ میں اس موسم میں زچگی کی تکالیف بہت زیادہ نمایاں طور پر پیدا ہو جاتی ہیں میں نے کئی دفعہ دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے اور بعد میں اسی طرح مشاہدہ کیا ہے پس <mark>ان</mark> امور سے ایک عام <mark>ان</mark>دازہ اس امر کا کیا جا سکتا ہے کہ زمین و آسم<mark>ان</mark> مل کر سارے عالم پر مختلف اثرات ڈالتے ہیں اور اسی قسم کے <mark>بعض</mark> مشاہدات سے <mark>بعض</mark> لوگ اس وہم میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ سورج، چ<mark>ان</mark>د، ستارے بھی خدائی میں شریک ہیں اور <mark>ان</mark> کے خوش کرنے کے لئے کئی قسم کی عبادات بجا لاتے ہیں مگر یہ سب وہم ہیں جو <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>یت سے گراکر حیو<mark>ان</mark>یت کے مقام تک پہنچا دیتے ہیں۔اصل حقیقت تو <mark>ان</mark> تاثیرات میں صرف اس قدر ہے کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> اس تمام کائنات کو ایک طبعی مؤثر اپنے اعمال اور قویٰ پر سمجھے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی اع<mark>ان</mark>ت کا طالب ہو تاکہ اپنے علم سے کام لینے کے بعد جن باتو ںکا اسے علم نہیں <mark>ان</mark> میں خدا تعالیٰ کی مدد اس کی راہنمائی کرے اور اس کی غیبی حفاظت کے سام<mark>ان</mark> کرے ورنہ اس قسم کے امو رکو دیکھ کر اجرام فلکی کی عبادت کرنی تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی طاعون کے کیڑوں یا ہیضہ کے کیڑوں کی عبادت شروع کر دے۔اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک کے <mark>بعض</mark> جاہل <mark>ان</mark> چیزوں کی عبادت کربھی رہے ہیں چن<mark>ان</mark>چہ چیچک کی دیوی کی عبادت تو ہمارے ملک میں مشہور ہے۔اسی وہم کی بناء پر ہمارے ملک میں چیچک کا نام نہیں لیتے بلکہ اسے ماتا یعنی ماں <mark>کہتے</mark> ہیں تاکہ وہ مزعومہ دیوی خوش ہو کر ماتا کہنے والے ماں باپ کی اولاد کو چھوڑ دے۔نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔<mark>غرض</mark> اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ زمین اور آسم<mark>ان</mark> میں اللہ تعالیٰ نے <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کے آرام کے سام<mark>ان</mark> پیدا کئے