تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 308
کیوں بعض ا یاّم میں گر کر سر کو چوٹ آنے کے حادثات زیادہ ہوتے ہیں اور بعض ا یاّم میں گر کر لاتوں کو زیادہ ضربیں آتی ہیں۔میں نے اپنے ہسپتال کے ڈاکٹر صاحب سے اس کا ذکر کیا اور انہو ںنے اس کا خیال رکھا تو بعد میں کئی دفعہ اس کی رپورٹ کی کہ آج فلاں حادثہ کے مریض کثرت سے آ رہے ہیں حالانکہ وہ تکلیفیں بیماریوں کا نتیجہ نہ تھیں کہ انہیں وبا ءکہا جائے بلکہ حادثات تھے جو ایک ہی صورت میں ظاہر ہوئے اور لطیفہ یہ کہ چوٹوں کے مریض آنے شروع ہوئے تو کبھی پے در پے سر کی چوٹوں کے مریض آئے اور کبھی پے در پے لاتوں کی چوٹوں کے مریض آئے اس تجربہ کے بعد انہوںنے تسلیم کیا کہ واقعہ میں یہ امر ایک حیرت انگیز قانون قدرت کے مخفی اسباب پر دلالت کرتا ہے۔زمین و آسمان کا ملکر سارے عالم پر مختلف اثرات ڈالنا غرض علاوہ اس کے کہ بارشوں، خشک سالی، کھیتوں کے پکنے یا موسمی تغیرات کا تعلق اجرام فلکی سے ہے۔حوادث اور بعض غیر متعدی بیماریوں کا تعلق بھی اجرام فلکی سے ہے چنانچہ میں نے یہ تجربہ کیاہے کہ جس علاقہ میں پورا چاند گرہن ہو اس علاقہ میں اس موسم میں زچگی کی تکالیف بہت زیادہ نمایاں طور پر پیدا ہو جاتی ہیں میں نے کئی دفعہ دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے اور بعد میں اسی طرح مشاہدہ کیا ہے پس ان امور سے ایک عام اندازہ اس امر کا کیا جا سکتا ہے کہ زمین و آسمان مل کر سارے عالم پر مختلف اثرات ڈالتے ہیں اور اسی قسم کے بعض مشاہدات سے بعض لوگ اس وہم میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ سورج، چاند، ستارے بھی خدائی میں شریک ہیں اور ان کے خوش کرنے کے لئے کئی قسم کی عبادات بجا لاتے ہیں مگر یہ سب وہم ہیں جو انسان کو انسانیت سے گراکر حیوانیت کے مقام تک پہنچا دیتے ہیں۔اصل حقیقت تو ان تاثیرات میں صرف اس قدر ہے کہ انسان اس تمام کائنات کو ایک طبعی مؤثر اپنے اعمال اور قویٰ پر سمجھے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی اعانت کا طالب ہو تاکہ اپنے علم سے کام لینے کے بعد جن باتو ںکا اسے علم نہیں ان میں خدا تعالیٰ کی مدد اس کی راہنمائی کرے اور اس کی غیبی حفاظت کے سامان کرے ورنہ اس قسم کے امو رکو دیکھ کر اجرام فلکی کی عبادت کرنی تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی طاعون کے کیڑوں یا ہیضہ کے کیڑوں کی عبادت شروع کر دے۔اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک کے بعض جاہل ان چیزوں کی عبادت کربھی رہے ہیں چنانچہ چیچک کی دیوی کی عبادت تو ہمارے ملک میں مشہور ہے۔اسی وہم کی بناء پر ہمارے ملک میں چیچک کا نام نہیں لیتے بلکہ اسے ماتا یعنی ماں کہتے ہیں تاکہ وہ مزعومہ دیوی خوش ہو کر ماتا کہنے والے ماں باپ کی اولاد کو چھوڑ دے۔نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔غرض اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ زمین اور آسمان میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے آرام کے سامان پیدا کئے