تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 307

مضمون کو مکمل کیا ہے۔پہلی آیت میں تو یہ بتایا تھا کہ عبادت صرف رَبّ کی اور اس ربّ کی جس نے تم کو پیدا کیا ہو اور تمہارے آباء کو بھی پیدا کیا ہو صحیح ہو سکتی ہے کیونکہ وہی تمہاری قوتوں کی صحیح راہنمائی کر سکتا ہے۔اب اس آیت میں بتاتا ہے کہ آسمان و زمین بھی خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں اور ظاہر ہے کہ انسانی اعمال کا وجود ان اشیاء سے پیدا ہوتا ہے جو اس کے گر دو پیش ہیں آخر انسانی عمل کس چیز کا نام ہے؟ اس کی تجارت اس کی زراعت اس کی صنعت و حرفت اس کی سیر و سیاحت یہی اعمال ہیں جو انسان بجا لاتا ہے او ریہ سب امور زمین و آسمان اور ان کی تاثیرات سے پیدا ہوتے ہیں۔پس وہی ہستی انسان کے اعمال کو صحیح راستہ پر چلا سکتی ہے جو زمین و آسمان اور ان کی تاثیرات کو پیدا کرنے والی ہے دوسری کوئی ہستی اس بارہ میں کامل ہدایت نہیں دے سکتی کیونکہ وہ بوجہ ان اشیاء کی خالق نہ ہونے کے ان کی تاثیرات اور قوتوں کی پوری طرح واقف نہیں ہو سکتی۔نہ وہ ان اشیاء کو انسان کی مدد پر لگا سکتی ہے کیونکہ اسے ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔پس فرمایا کہ اس خدا کی عبادت کرو جس نے زمین کو تمہارے لئے فراش کے طور پر بنایا ہے یعنی ایسا بنایا ہے کہ اس سے تم فائدہ اُٹھا سکتے ہو اور اس میں آرام کر سکتے ہو۔جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے فراش سے مراد اس طرح پھیلانے کے ہیں کہ اس پر آرام کیا جا سکے پس زمین کو فراش کی طرح بنانے کے یہ معنے ہیں کہ اس میں انسان کے آرام کے سامان پیدا کئے گئے ہیں لیکن یہ ظاہر ہے کہ زمین پر ہر قسم کا تصرّف انسان کے آرام کا موجب نہیں ہوتا یہی زمین انسان کی ہلاکت کا موجب بھی ہو جاتی ہے پس زمین کی طاقتوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے بھی کسی قاعدہ اور دستور کی ضرورت ہے اور وہی قاعدہ اور دستور سب سے زیادہ مناسب ہو سکتا ہے جو زمین کے پیداکرنے والے کی طرف سے مقرر کیا جائے۔آسمان کو چھت بنانے سے مراد اسی طرح آسمان کوبطور چھت کے بنایا گیا ہے یعنی حفاظت کا ذریعہ۔سورج اور چاند اور ستاروں کی روشنیاں کس طرح ہزاروں فائدے انسان کو پہنچا رہی ہیں مگر ان کی مخالف تاثیرات بھی ہیں جو انسان کے اخلاق و عادات پر اثر ڈالتی ہیں۔ہزاروں بیماریاں اور حادثات اجرام فلکی کے دوروں سے تعلق رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سائنسدان تسلیم کریں یا نہ کریں دنیا پر بعض ایسے حوادث آتے ہیں جو زمینی تغیرّات کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔مثلاً میں نے دیکھا ہے کہ بعض ا یاّم میں عورتیں کثرت سے اسقاط کی مرض میں مبتلا ہوتی ہیں بعض ا یاّم میں لڑکیوں کی پیدائش کی کثرت ہوتی ہے اور بعض میں لڑکوں کی بعض ایام میں تکلیف دِہ زچگی کی شکایات بڑھ جاتی ہیں بعض ا یاّم میں دیکھا گیا ہے کہ ہڈی ٹوٹنے کے حادثات کثرت سے ہوتے ہیں بعض ا یاّم میں ریلیں کثرت سے ٹکراتی ہیں ان تغیرّات کو محض حادثہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔کیونکہ آخر اس کی کوئی وجہ ہونی چاہیے کہ