تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 303
کو بغیر اصل اور نمونہ پیدا کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔پس ایک خاص موقع کے استعمال سے یہ استدلال کرنا کہ سب جگہ وہی معنے ہیں درست نہیں۔قرآن کریم میں وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ (الانعام :۱۰۲) بھی تو آتا ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خلق کا لفظ ہی قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا بلکہ بَدِیْع اور فَاطِر کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے اور بَدِیْع کے معنے ہیں جو شروع کرے اور فَاطِرکے معنے ہیں جو کسی پہلے سے موجود وجود کے بغیر نیا وجود پیدا کرے۔اس میں شک نہیں کہ قرآنِ کریم میںفَطَرَنِيْ (ہود :۲ ۵) اور فَطَرَنَا (طٰہٰ : ۷۳) کے الفاظ آتے ہیں مگر اس سے ابتدائے پیدائش کی طرف اشارہ کیا گیا ہے نہ کہ قریب کی پیدائش کی طرف۔یہ آیت اس لحاظ سے نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ ترتیب مستقل کے لحاظ سے اس میں قرآن کریم کا سب سے پہلا حکم بیان ہوا ہے۔اس سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ متقی ایسا ایسا کرتے ہیں مگر حکم کے طور پر بنی نوع انسان کو نہ کہا گیا تھا کہ تم ایسا کرو۔حکم سب سے پہلے اسی آیت میں دیا گیا ہے اور سب سے پہلا حکم توحید کا دیا گیا ہے اور ایسے لطیف اور مکمل طو رپر دیا گیا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی مثلاً اوّل تو عبادت کرو کا حکم اَلنَّاس کو دیا گیا ہے یعنی سب دنیا کو مخاطب کیا گیا ہے نہ کہ صرف عربوں کو جو اِس امر کا ثبوت ہے کہ اسلام شروع سے ہی سب دنیاکو دینِ توحید پر جمع کرنے کا مدّعی ہے اور قومی عبادتوں کو مٹا کر ایک جامع حلقہ جس میں سب انسان آ جائیں بنانا چاہتا ہے پھر عبادت کس کی کرو؟ اس کے لئے اللّٰہ کا لفظ نہیں استعمال کیا بلکہ رَبّ کا لفظ چنا ہے جس سے بہت سے معبود انِ باطلہ کا رد ہو گیا کیونکہ دنیا میں بہت لوگ شرک پتھروں سے کرتے ہیں ربّ کے لفظ سے ایسے تمام وجودوں کو عبادت کی حدّ سے نکال دیا۔پھر لوگ دریائوں، پہاڑوں، ستاروں کی پرستش کرتے ہیں اَلَّذِيْ خَلَقَكُمْ کہہ کر ان کو خارج کر دیا۔پھر کچھ لوگ اپنے بزرگوں کی پوجا کرتے وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کہہ کران کو بھی عبادت سے خارج کر دیا۔غرض ایسی جامع عبارت بیان کی ہےکہ چند لفظوں میں خالص توحید کی تعلیم دے دی ہے۔اسی طرح تعلق کی مضبوطی کے لئے فطرت کے َعین مطابق طریق استعمال کیا۔دنیا میں تعلق کے دو ہی طریق ہیں یا محبت یا خوف۔مختلف اقوام میں عبادت انہی دو اسباب کی وجہ سے کی جاتی ہے جیسا کہ کمپیریٹو ریلیجنز (Comparative Religions) والوں نے تفصیل سے اس پر بحث کی ہے۔آیت ھٰذا میں محبت کی دو وجوہات کی طرف لطیف پیرائے میں اشارہ اس آیت میں دونوں باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے پہلا محبت کے لئے اور لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ خوف کے مضمون کو سامنے لانے کے لئے۔محبت آگے دو طرح پیدا ہوتی ہے یا حسن سے یا اِحسان سے۔اس مختصر آیت میں ان دونوں باتو ںکو خدا تعالیٰ سے