تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 299

جو عبادت کرتا ہے اور اس کے بزرگوں پر بھی ہو کیونکہ دنیا میں لوگ مخلصانہ تعلق دو ہی وجہ سے رکھتے ہیں یا تو اس لئے کہ ان پر احسان کیا جائے یا اس لئے کہ ان کے بزرگوں پر احسان کیا گیا ہو چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں قربانیاں اس لئے پیش کی گئی ہیں کہ قربانی کرنے والوں کے ماں باپ پر کسی شخص کا احسان تھا گو خود ان سے کوئی خاص سلوک نہ تھا۔ہزاروں جانیں ظالم بادشاہوں اور امراء کی خدمت میں اس لئے قربان کی جاتی رہی ہیں کہ ان ظالم بادشاہوں کے آباء نے ان قربانی کرنے والوں کے آباء سے حسن سلوک کیا تھا۔پس اولاد نے احسان کے بدلہ کے طو رپر باوجود خود مظلوم ہونے کے اپنی جانیں قربان کر دیں تا اس احسان کے ناقدردان نہ قرار دیئے جائیں لیکن اگر دونوں قسم کے احسان جمع ہو جائیں تو پھر تو محبت کا جذبہ نہایت شدّت سے اُبھر آتا ہے چنانچہ اس فطرتی جذبہ کو اپیل کرنے کے لئے اس آیت میں کہا گیا ہے کہ اے لوگو! اُس ہستی کی عبادت کروجو تمہاری بھی خالق ہے اور تمہارے آباء کی بھی۔جب عارضی تعلقات کی بناء پر تم اخلاص کا معاملہ کرتے ہو تو کیوں اس ہستی سے اخلاص کا تعلق پیدا نہیں کرتے جو تمہاری بھی ُمحسن ہے اور تمہارے آباء کی بھی ُمحسن رہی ہے؟ اس آیت میں عبادت کی تحریک بھی نہایت عجیب اسلوب سے کی گئی ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ضرورت خوب واضح ہو جاتی ہے۔اس جگہ عبادت کی تحریک ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ اے لوگو! اُس ربّ کی عبادت کرو جس نے تم کو بھی اور تمہارے بڑوں کو بھی پیدا کیا ہے اس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو کسی وجود کو پیدا کرنے والا ہو وہی اس کی صحیح طاقتوں کو سمجھتا ہے۔ایک مکان بنانے والا انجینئر جانتا ہے کہ اس کی تعمیر کردہ عمارت کس حد تک بوجھ برداشت کر سکتی ہے اسی طرح حقیقی اصلاح خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے جس نے انسان کو اور اس کے آباء کو پیدا کیا ہے اور وہی اس کی قوتوں کی حد بندی کو اچھی طرح جانتا ہے۔کسی اور ہستی کی عبادت کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اپنے آپ کو ایسے ناواقف کے سپرد کر کے تباہ کروایا جائے جو انسان کی قابلیتوں اور اس کی حد بندیوں کو نہیں جانتا پس اصل عبادت جو صرف ظاہری رسوم کا نام نہیں بلکہ روحانی راستہ پر چلنے کا نام ہے خدا تعالیٰ کی ہی مناسب ہے کیونکہ وہی جانتا ہے کہ انسان کی قوتیں کیا ہیں اور انہیں کن ذرائع سے بڑھایا اور مکمل کیا جا سکتا ہے؟ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عبادت کا حکم کسی ایسی غرض کےلئے نہیں جس میں خدا تعالیٰ کا فائدہ ہو اس کے بعد عبادت کی وجہ بھی بتا دی کہ عبادت کی غرض صرف اقرار عبودیت نہیں اگر صرف اقرار عبودیت کسی عبادت کا مقصد ہوتا تب بھی خدا تعالیٰ کے سوا دوسرے کسی کی عبادت کرنا گو ظلم ہوتا مگر اس قدر مضر نہ ہوتا مگر عبادت تو حصولِ تقویٰ کے لئے کی جاتی ہے یعنی تکمیل روحانیت کے لئے اور تکمیل روحانیت