تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 296
اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام کمزوریاں اور گناہ صفاتِ الٰہیہ کے نہ سمجھنے اور ان پر کامل ایمان نہ ہونے سے پیدا ہوتے ہیں۔پس جس شخص کے دل میں ماَسوَی اللہ کا ڈر پیدا ہو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس ڈر کی نسبت کے مطابق اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق ایمان میں کمی ہے ورنہ وہ ڈر پیدا ہی نہ ہو سکتا۔اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ مرنے پر بھی قادر ہے یا کیا خدا تعالیٰ جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے؟ یہ اعتراض بالکل بے سوچے سمجھے کیا گیا ہے کیونکہ قَدِیْر کا لفظ تو قدرت اور طاقت کے کمال پر دلالت کرتا ہے پھر کیا مرنا اور جھوٹ بولنا قدرت اور طاقت کی علامتیں ہیں کہ اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ خدا تعالیٰ مرنے پر اور جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے یہ تو ایسا ہی اعتراض ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں شخص بڑا بہادر ہے تو دوسرا اعتراض کرے کہ کیا وہ ایسا بہادر ہے کہ چور سے ڈر کر بھاگ بھی سکتا ہے؟ ایسے معترض کو کونسا شخص عقلمندوں میں شمار کرے گا؟ دوسرے یہ بھی یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے معترضین کو خامو ش کرنے کے لئے عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور شَیْ ءٌ کے معنی چاہی ہوئی چیز کے ہوتے ہیں پس اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہر اس چیز پر قادر ہے جس کا وہ ارادہ کر لے ان الفاظ سے وہ اعتراض کلّی طو رپر باطل ہو جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ موت اور جھوٹ کا ارادہ نہیں کرتا کیونکہ یہ قدرت نہیں بلکہ ضعف کی علامت ہے۔يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِيْنَ اے لوگو اپنے رب کی جس نے تمہیں (بھی )اور انہیں ( بھی )جو تم سے پہلےگزرے ہیں پیدا کیا ہےعبادت کرو مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۰۰۲۲ تاکہ تم (ہر قسم کی آفات سے )بچو۔حَلّ لُغَات۔اُعْبُدُوْا۔اُعْبُدُوْا امر مخاطب جمع کا صیغہ ہے۔اَلْعِبَادَۃُ۔کے معنے ہیں غَایَۃُ التَّذَلُّلِ۔کامل تذلّل (مفردات) مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ الفاتحۃ آیت۵۔رَبُّکُمْ۔رَبّکے معنی کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ الفاتحۃ آیت۲۔خَلَقَکُمْ۔خَلَقَ (یَخْلُقُ) ا لْاَدِیْمَ کے معنے ہیں قَدَّرَہٗ قَبْلَ اَنْ یَّقْطَعَہٗ۔۔کھال کو کاٹنے سے پہلے اُسے جانچا کہ زیادہ سے زیادہ مفید کٹائی کس طرح ہو سکتی ہے اور جب خَلَقَ الشَیْءَ کہیں تو معنے ہوں گے۔