تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 295
اور خون خراب کر رہا ہو پھر ان دونوں سے جو حالت غالب آ جائے وہ اُسی گروہ میں شامل ہو جاتا ہے۔اس حدیث سے ثابت ہے کہ ایک منافق وہ ہوتا ہے جو ایمان کے لحاظ تو مسلمانوں میں شامل ہوتا ہے مگر عملی لحاظ سے اس میں کمزوریاں ہوتی ہیں اگر اس کی ایمانی حالت غالب آ جائے تو وہ مومن ہو جاتا ہے اور نفاق کی حالت غالب آ جائے تو پورا منافق ہو جاتا ہے یعنی ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔یہ مضمون آیات مذکورہ بالا کی تشریح ہے کیونکہ ان آیات میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ ایسے شخص کی روحانی شنوائی اور بینائی باطل نہیں ہوئی لیکن اگر یہ حالت دیر پا رہی تو ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ان آیات نے مومن کو بہت ہوشیار کیا ہے۔ان میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی ہدایت آتی ہے اس کے ساتھ شروع میں بہت سی مشکلات اور مصیبتیںلپٹی ہوئی ہوتی ہیں۔دین کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہوتا بلکہ خار دار جنگلوں میں سے گزر کر انسان گوہرِ مراد کو پاتا ہے پس اگر ایمان چاہو تو ان مصائب کو برداشت کرنا پڑے گا اور وہ قربانیاں ضرور دینی پڑیں گی جو اس مراد کے حصول کے لئے مقرر کی گئی ہیں جو شخص ایمان لینا چاہے لیکن قربانیاں پیش نہ کرنا چاہے وہ بیوقوف ہے اور نفاق کی راہ سے خدا تعالیٰ کو پانا چاہتا ہے وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اگر صداقت کے متلاشی اس ُگر کو سمجھ لیں تو ان کی کامیابی یقینی ہے ورنہ وہ خیالی پلائو پکانے والے ثابت ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کی بجائے اس کے غضب کو اپنے پر وارد کر لیں گے۔اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہ۔اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ اس میں یہ بتایا کہ کمزور ایمان والو ںکا ڈر اللہ تعالیٰ پرکامل ایمان نہ ہونے اور اس کی صفات کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔آخر وہ قربانیوں سے کیوں ڈرتے ہیں؟ اسی وجہ سے نہ کہ ایسا نہ ہو کہ کفاّر کے ہاتھوں ہم دکھ اُٹھائیں حالانکہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ کی صفات پر پورا یقین ہو تو وہ کبھی اس شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔اگر ان کو یہ یقین ہو کہ خدا تعالیٰ ہر امر جس کا فیصلہ کرے اُس پر قادر ہے تو کفاّر کی طرف سے کسی خطرہ سے وہ کیوں ڈریں ؟ان کو جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس امر کا ارادہ کر لے اس پر پورا قادر ہوتا ہے اور اس کے ارادہ کو پورا ہونے سے کوئی شخص روک نہیں سکتا۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اسلام کو ترقی دے اور غلبہ عطا کرے تو اس کے اس ارادہ کو کفار خواہ بظاہر کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہو ںاور ان کے پاس کتنے ہی سامان کیوں نہ ہوں کس طرح پورا ہونے سے روک سکتے ہیں؟ پس چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کریں او ران پر اپنے ایمان کو مضبوط کریں پھر ان کا ڈر آپ ہی آپ دور ہو جائے گا۔