تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 24
میں یہ عبارت بھی تھی کہ اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ (النمل:۳۱) تو پھر یہ کہنا کہ مسلمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اس سے پہلے اس آیت کا مضمون دُنیا میں رائج نہ تھا کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ اسلام کا یہ دعویٰ نہیں کہ اس آیت کا مضمون نیا ہے۔اللہ۔رحمٰن۔رحیم یہ سب ہی لفظ پہلے موجود تھے اور استعمال ہوتے تھے۔اسلام کا تو یہ دعویٰ ہے کہ اس کا وہ استعمال جو قرآن کریم میں ہوا ہے اس سے پہلے موجود نہیں۔اگر کوئی دشمن اسلام اس کا ثبوت پیش کرے تو بیشک اس کی بات قابلِ توجہ ہو سکتی ہے مگر یہ ناممکن ہے کیونکہ قرآن کریم سے پہلے کوئی بھی ایسی کتاب نہیں جس کی نسبت دعویٰ کیا گیا ہو کہ اس کا ہر ہر لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔پس کوئی آسمانی کتاب نہیں جس کے ہر ٹکڑے سے پہلے یہ عبارت درج کی جا سکے سوائے قرآن کریم کے۔باقی رہا تبرک کے طو رپر اللہ اور اس کی صفات کا ذکر اپنے خطوں یا مضمونوں سے پہلے کرنا۔سو یہ عام بات ہے۔اس کا نہ اسلام کو انکار ہے نہ مسلمانو ںکو۔اس امر میں اگر دوسرے لوگ مسلمانوں کے شریک ہوں توہزار دفعہ ہوں۔باقی رہا ریورنڈوھیری کا اعتراض۔سو اس کا بھی ایک جواب اوپر آ چکا ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ دونوں عبارتوں کے معنوں میں اس قدر فرق ہے کہ وہی ان کو ہم معنی قرار دے سکتا ہے جو عربی زبان سے ناواقف ہو۔بخشائش گر اور دادار کا مفہوم رحمٰن اور رحیم کے مفہوم کا بیسواں حصہ بھی تو نہیں۔(جیسا کہ اس سورۃ کے متعلق تفسیری نوٹوں سے معلوم ہو جائے گا) لیکن جس حد تک اس میں خوبی ہے اس کا ہمیں انکار نہیں۔اسلام کا دعویٰ ہے کہ پہلی سب قوموں میں نبی گزرے ہیں اور آیت وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ(فاطر :۲۵) اس پر شاہد ہے پھر اگر کوئی اچھا فقرہ زرد شتیوں کی کتب میں موجود ہو تو مسلمانوں کو کیوں بُرا لگنے لگا۔برُا تو ریورنڈوھیری یا ان کے ہم مذہب لوگوں کو لگے گا۔جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اور بنو اسرائیل کی قوم سے باہر نبوت اورالہام کا نشان انہیں کہیں نہیں ملتا۔اسلامی نقطہ نگاہ سے زردشت خدا کا پیغامبر ہے اور ہمارے لئے واجب صد احترام۔اس کے کلام کا منبع قرآن کا منبع ہے۔پس ان دونوں میں اشتراک یا موافقت کونسا قابلِ تعجب امر ہے! لفظ اللّٰہ کے عَلم ہونے کے متعلق خلیل اور سیبویہ کا خیال پہلے حلِّ لُغات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ کے لفظ کے بارہ میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسم مشتق ہے مگر جیسا کہ وہاں پر ثابت کیا جاچکا ہے یہ سب خیال غلط ہیں اور اَئمہ نحوان کو ردّ کرتے ہیں چنانچہ سیبویہ اور خلیل دونوں کا خیال ہے کہ اللّٰہ َعلم ہے اور کسی دوسرے لفظ سے مشتق بھی نہیں ہے۔(تفسیر کبیرلامام فخر الدین رازی تفسیر سورۃ الفاتحۃ الباب التاسع فی المباحث المتعلقة بقولنا ’’اللہ‘‘) اس کے دلائل مختلف علماء نے یہ دیئے ہیں کہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لئے مستعمل نہیں ہے حتیّٰ کہ