تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 23
کی اس قسم کی اصلاح کے بعد قرآنی مطالب جس طرح کھل سکتے ہیں اس کے بغیر نہیں کھل سکتے۔پس ہر سورۃ سے پہلے اس آیت کو رکھ کر قرآنی مطالب کے اظہار کا ایک زبردست ذریعہ مہیا کیا گیا ہے۔پانچویں وجہ اس آیت کو ہر سورۃ سے پہلے رکھنے کی یہ ہے کہ یہ ہر سورۃ کے لیے کنجی کا کام دیتی ہے۔تمام دینی اور روحانی مسائل رَحْمٰن اور رَحِیْم دو صفات کے گرد چکر کھاتے ہیں۔چونکہ غلط فہمی دو طرح دور ہوتی ہے کبھی تفصیل سے اور کبھی اِجمال سے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر سورۃ کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ رکھ دی تاکہ سورۃ کے مطالب میں جو اشتباہ پیدا ہواُسے پڑھنے والا بِسْمِ اللّٰہِ سے دُور کر لے یعنی جو مطلب وہ سمجھتا ہے اگر رحمٰن اوررحیم کے مطابق ہو تو اسے درست سمجھے اور اگر اس کے خلاف ہو تو اسے غلط قرار دے۔اس طرح بِسْمِ اللّٰہِ کی شارح سورۃ ہو جاتی ہے اور سورۃ کی مفسّر بسم اللہ اور دونوںکی مدد سے صحیح مفہوم پڑھنے والے کے ذہن نشین ہو جاتا ہے۔بِسْمِ اللّٰہِ کا ذکر پہلی کتب میں بِسْمِ اللّٰہِ کے متعلق عیسائیوں کا اعتراض کہ وہ پہلی کتب سے نقل کی گئی ہے بعض معترضین کہتے ہیں کہ بِسْمِ اللّٰہِ جس پر تم کو اس قدر ناز ہے پہلی کتب میں بھی پائی جاتی ہے مثلاً زر دشتی کتب میں بھی لکھا ہےکہ بنام یزدان بخشائش گر دادار بعد کی فارسی میں اس کا اس طرح ترجمہ کیا ہے۔بنام خداوند بخشایندہ بخشائش گر (تفسیر ریورنڈوھیری جلد ۱ صفحہ ۲۸۹) یا یہ کہ یہود میں بھی بسم اللہ کا رواج تھا۔ان سے سیکھ کر عربوں میں رائج ہوا اور پہلے پہل طائف کے امیر نے اس کا رواج دیا۔(راڈول ترجمہ قرآن صفحہ ۱۹) بِسْمِ اللّٰہِ کے پہلی کتب سے نقل کئے جانے کے اعتراضات کا جواب راڈول کا جواب تو یہ ہے کہ یہ قطعاً غلط ہے کہ عربوں میں اس صورت میںبِسْمِ اللّٰہِ کا رواج تھا عرب تو اَلرَّحْمٰن کے کثرت استعمال کو پسند ہی نہ کرتے تھے بہرحال اس کا کوئی تاریخی ثبوت چاہیے کہ ان میںبِسْمِ اللّٰہِ اس شکل میں رائج تھی مگر ایسا ثبوت ہر گز موجود نہیں۔باقی رہا کہ یہود میں بھی اس کا رواج تھا اگراس سے یہ مراد ہے کہ زمانہ نبوی یا قریب زمانہ میں یہود کی قوم اس عبارت کو استعمال کیا کرتی تھی یا ان کی تاریخ میں اس کا ثبوت ملتا ہے تو یہ بالکل خلاف واقعہ ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ خود قرآن کریم میں ہی لکھا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اس آیت کو اپنے خط میں استعمال کیا تو یہ اوّل درجہ کی بددیانتی ہے کہ قرآن کریم کے حوالہ کو دوسروں کی طرف منسوب کر کے قرآن کریم پر اعتراض کا ذریعہ بنایا جائے۔جب خود قرآن کریم حضرت سلیمان علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے کہ انہوں نے ملکہ سباء کو جو خط لکھا تھا اس