تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 290

بہرحال کافر حملہ کریں گے تب بھی انہیں کچھ نہ کچھ ضرر پہنچے گا اور مومن حملہ کریں گے تب بھی کچھ نہ کچھ نقصان انہیں پہنچے گا۔ان کے کانوںمیں اُنگلیاں ڈال لینے سے وہ اعلان جنگ تو نہ ٹل جائے گا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے۔کفر و ایمان کی نبردآزمائی ان بُزدلوں کے اظہارِ بُزدلی سے رُک تھوڑے ہی جائے گی۔جیسا کہ اوپر کی تشریح سے ظاہر ہے صُوَاعِق، ظُلُمَات، رَعْد اور بَرق کے علاوہ ایک تیسری شے ہے ضروری نہیں کہ جب بجلی چمکے اس سے صاعقہ بھی گرے۔صاعقہ کبھی گرتی ہے کبھی نہیں۔اسی طرح کفروایمان کے ٹکرائو میں ہمیشہ جنگ کی صورت ہی پیدا نہیں ہوتی کبھی بجلی صرف روشنی کا کام دے جاتی ہے اس میں سے صاعقہ نہیں گرتی اور کبھی اس کے ساتھ صاعقہ بھی گرتی ہے جب بجلی کی چمک کے ساتھ صاعقہ نہ ہو تو منافق نہیں گھبراتے کیونکہ خالی بجلی کا چمکنا اسلام کی شوکت کے اظہار کے لئے ہے ہاں جب اس کے ساتھ صاعقہ بھی ہو تب وہ بہت گھبراتے ہیں چنانچہ اگلی آیت میں اس فرق کو ظاہر کیا ہے۔اس آیت کی ترکیب کچھ مشکل ہے نحویوں کو اس میں اختلاف ہے کہ مِنَ الصَّوَا عِقِ کا کیا مقام ہے اور حَذَرَ الْمَوْتِ کا کیا؟اکثر مفسر حَذَرَ الْمَوْتِ کو مَفْعُوْل لَہٗ قرار دیتے ہیں لیکن اس پر بعض مفسرین نے اعتراض کیا ہے کہ مِنَ الصَّوَاعِقِ کا پھر کیا مقام ہے؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ مِنْ اس جگہ سببیّہ ہے اس پر معترض اعتراض کرتے ہیں کہ اگر مِنْ سببیّہ ہے تو وہ بھی فِیْ معنی مَفْعُوْل لَہٗ ہوا۔اس صورت میں دونوں مفعولوں میں عطف چاہیے تھا۔اس کا جواب پہلا گروہ یہ دیتا ہے کہ فی معنی مفعول لَـہٗ ہونا اور بات ہے اور مفعول لَـہٗ ہونا اور بات۔اس لئے عطف کی ضرورت نہ تھی (تفسیر البحر المحیط) بعض نے حَذَرَ الْمَوْتِ کو مَفْعول مُطْلَق قرار دے کر اس مشکل کو حل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ حَذَرَ الْمَوْتِ سے پہلے یَحْذَرُوْنَ کا فعل محذوف ہے اس کے مفعول موت کو وہاں سے اُٹھا کر حَذَر مصدر کو اس کی طرف مضاف کر دیا گیا ہے اور معنے یہ ہیں کہ صَوَاعِق کے ڈر سے کانوں میں انگلیاں دیتے ہیں اور اس طرح ڈرتے ہیں جس طرح موت سے ڈرنا چاہیے (املاء ابی البقاء) مِنَ الصَّوا عِقِ یَجْعَلُوْنَ کا متعلق ہے۔(تفسیر الکشّاف للزمخشری ) يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائیوں کو اچک کر لے جاوے جب بھی وہ ان پر چمکتی ہے تو وہ اس (کی روشنی )میں چلنے