تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 287

شک یا ابہام کے معنوں کے تقسیم کے معنے بھی دیتا ہے یعنی اس سے شے مذکور کی قسمیں بیان کرنی مطلوب ہوتی ہیں جیسے مثلاً یہ کہیں کہ اَلْکَلِمَۃُ اِسْمٌ اَوْ فِعْلٌ اَوْحَرْفٌتو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ کلمہ اسم ہوتا ہے یا فعل یا حرف بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ کلمہ کئی قسم کا ہوتا ہے یا اسم ہوتا ہے یا فعل یا حرف۔پس اگر اَوْ کے معنے یا کے کئے جائیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ منافقو ںکی دو قسمیں ہیں یا تو وہ کافر جو ظاہر میں مسلمان بن گئے ہیں یا وہ مسلمان جو عقیدۃً تو مسلمان ہیں لیکن ایمان کی کمزوری کی وجہ سے کفار سے تعلق رکھتے اور ان کے ڈر سے اسلام کے لئے قربانیاں کرنے سے گریز کرتے ہیں۔حماسہ میں جعفر بن علبہ حارثی کا شعر لکھا ہے ؎ فَقَالُوْا لَنَا ثِنْتَانِ لَا بُدَّ مِنْھُمَا صُدُوْرُ رِمَاحٍ اُشْرِعَتْ اَوْسَلَاسِلُ جس کے یہ معنی ہیں کہ انہو ںنے کہا کہ ہمارے پاس دو چیزیں تمہارے لئے ہیں ان دونوں میں سے ایک کے لینے کے سوا تمہیں کوئی چارہ نہیں یا اُٹھائے ہوئے نیزوں کے سر لینے پڑیں گے یا زنجیریں۔مطلب یہ کہ تم میں سے بعض کو ہم مار دیں گے اور بعض کو قید کرلیںگے۔اس میں شک کا کوئی شائبہ نہیں ہے بلکہ صرف مخالف کی تقسیم بتائی ہے کہ ہم اسے دو حصو ں میں تقسیم کر دیں گے یعنی مقتولوں اور قیدیوں میں۔اَوْ بمعنی مطلق جمع کے لحاظ سے آیت ھٰذا کی تقسیم اسی طرح اَوْ کے ایک معنی لغت میں جمع مطلق کے بھی آتے ہیں یعنی یہ لفظ صر ف جمعکے معنے دیتا ہے اور یا کے معنی نہیں دیتا چنانچہ لغت میں اس کی مثال یہ مصرعہ لکھا ہے ع لِنَفْسِیْ تُقَاھَا اَوْ عَلَیْھَا فُجُوْرُھَا اس کے یہ معنے نہیں کہ یا میرے نفس کو تقویٰ ملے گا یا فجور۔بلکہ یہ معنے ہیں کہ میرے نفس کو اس کے تقویٰ کا بھی بدلہ ملے گا۔اور اس کے گناہ کا بھی بدلہ ملے گا۔پس اس آیت میں شک کا کوئی ذکر نہیں بلکہ صرف یہ بتایا ہے کہ منافق اوپر کی صفات والے بھی ہیں اور ان دوسری صفات والے بھی جو اس آیت میں بیان ہوئے ہیں۔عرب کا ایک شاعر کہتا ہے ؎ قَوْمٌ اِذَا سَمِعُوا الصُّرَاخَ رَءَ یْتَہُمْ مَا بَیْنَ مُلْجِمِ مُھْرِہٖ اَوْ سَافِعِ (لسان العرب زیر لفظ سفع) یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ جب کسی فریادی کی آواز سُنتے ہیں تو فوراً ان میں سے کچھ توگھوڑوں کے مُنہ میں لگام